1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے: گیلانی کی ڈوئچے ویلے سےخصوصی گفتگو

27 نومبر 2009

پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعہ کو ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی حکومت ملک میں پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لئے اپنی ہرممکن کوششیں جاری رکھے گی۔

https://p.dw.com/p/KjjT
تصویر: AP

امتیاز گل(سوال) : یہ خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے کہ پاکستانی افواج کو جنوبی وزیرستان کے بعد شمالی وزیرستان میں استعمال کیا جائے کیونکہ وہاں پر وہ لوگ موجود ہیں جن کوامریکہ اپنے لئے خطرہ سمجھتاہے جن میں گلبدین حکمت یار، سراج الدین اور جلال الدین حقانی شامل ہیں۔ لیکن امریکیوں کایہ کہنا ہے کہ اور جس طرح ذرائع ابلاغ میں خبریں گردش کرتی ہیں کہ یہ پاکستان کے اثاثے اور دوست ہیں اس لئے ان پر کبھی حملہ نہیں کیا جائے گا۔

یوسف رضا گیلانی (جواب): ” اصل میں ہم عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جن کا کوئی مذہب یا ملک نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی شناخت ہے۔ دہشتگرد اس حوالے سے افغانستان اورپاکستان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔

Pakistanisches Parlament (innen)
گیلانی نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کا فقدان نہیں ہےتصویر: AP

یہ انتہاءپسند سرحد پارسے آتے ہیں جن میں چیچنیا، بوسنیا ، عرب ممالک اورافغانستان کے طالبان شامل ہیں جو کہ مسلح افواج کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ہم صرف پاکستان مخالف عناصر سے برسر پیکار ہیں بلکہ میں یہ چیزواضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں جو کہ پورے خطے کے لئے خطرہ ہے۔

دہشتگردی کے خلاف اس لڑائی میں ہماری طرف سے کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی جا رہی اور نہ ہی اس پالیسی میں کوئی نرمی برتی جا رہی ہے۔ ہمارے درمیان دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس اداروں کا آپس میں تعاون مزید بہتراور زیادہ موثرہوناچاہئے تاکہ اس صورتحال میں مل بیٹھ کر مشترکہ حکمت عملی طے کی جا سکے ۔ یہ خبریں عدم اعتماد کی وجہ سے ذرائع ابلاغ پر آتی ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا سوال ہے ان کے لئے عسکریت پسند ایک جیسے ہیں ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم دہشتگردوں اوربیرونی عناصر کو اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے ۔ اس لئے ذرائع ابلاغ پر اس قسم کی خبروں کی میں سختی سے تردیدکرتا ہوں۔“

پاک۔ امریکہ تعلقات میں اعتماد کی کمی

سوال: پاکستانی ذرائع ابلاغ کے علاوہ خاص طور پر امریکی اور یورپی ذرائع ابلاغ پر اکثر یہ باتیں آتی ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد ابھی تک موجود ہے۔ آٹھ سال قربانیاں دینے کے باوجود بھی امریکہ کا پاکستان پر اعتماد بحال نہیں ہوسکا ہے ....آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اپوزیشن کی کمزوری ہے یا سیاسی قیادت کا فقدان ہے جس کی وجہ سے طویل المیعاد تعلقات کے باوجود عدم اعتماد ابھی بھی برقرارہے؟

جواب: ” عدم اعتماد کی کیا وجہ ہے یہ تو امریکہ ہی بتا سکتا ہے اورجہاں تک سیاسی قیادت کے فقدان کی بات ہے اگر پاکستان میں قیادت کا فقدان ہوتا تو شاید ہم مالاکنڈ، سوات، جنوبی وزیرستان میں کامیاب فوجی آپریشن نہ کرپاتے۔ ضرورت پڑنے پر دوسرے علاقوں میں بھی فوجی آپریشن کیا جا سکتا ہے امریکی افواج کی کارکردگی کے حوالے سے میں ان کے ذرائع ابلاغ سے سوال کروں کہ انہوں نے ساڑھے پانچ سال میں افغانستان میں کیا کارکردگی دکھائی ہے۔"

Trauerminute im Bundestag
یوسف رضا گیلانی جلد جرمنی کا دورہ کریں گےتصویر: AP

پاکستانی کی اندرونی سیاسی صورتحال

سوال :آپ جرمنی جا رہے جو کہ نیٹو کا ایک انتہائی اہم رکن ملک ہے اور ملکی صورتحال آپ کے سامنے ہے کہ الطاف حسین صاحب صدر زرداری سے شاکی ہیں ،آپ کے نوازشریف صاحب سے اچھے تعلقات بتائے جاتے ہیں اس صورتحال میں آپ کیا پیغام لے کر جا رہے ہیں۔ گزشتہ چند روزکے اخبارات بشمول آج کے اخبارات دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں پر قیادت نام کی کوئی چیز نہیں ....اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب : ’’ اس بات کی حقیقت ایک مفروضے کے سوا کچھ نہیں ....آپ یہ بتائیں کہ جرمنی میں ابھی جو حکومت قائم ہوئی ہے پہلے ان کے ساتھ لبرل پارٹی کی حمایت تھی اب صورتحال بالکل برعکس ہے پہلے والی حامی جماعتیں اب اپوزیشن میں بیٹھی ہیں اور ان کی پہلے والی اکثریت بھی نہیں....پہلے دو تہائی اکثریت تھی جو اب برقرارنہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ وہاں پر سیاست ہے۔آپ اس کو اختلاف رائے کہہ سکتے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہاں پر جمہوریت مستحکم نہیں ہے۔ ایسا کوئی واقعہ پارلیمنٹ میں پیش نہیں آیا جس سے غیرمستحکم جمہوریت کا عنصر ظاہرہو۔"

سوال :پارلیمنٹ کے فیصلوں پرعملدرآمد کی بات ہے ، ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر بار بار یہ سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان پر اس وقت حکمرانی کس کی ہے، صدر یاوزیراعظم کی؟

جواب: ” میں آپ کو یہ باورکرانا چاہتا ہوں کہ میں وزیراعظم ہوں اور جمہوری حکومت میں سربراہ وزیراعظم ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ ذرائع ابلاغ والے ابھی تک یہ سوچنے میں مصروف ہیں کہ ملک کون چلا رہا ہے تو میرے خیال میں یہ ایک بچگانہ سوچ ہے ....کہ اس وقت ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے ،صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے اور میں بطوروزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوں۔ "

معاشی صورتحال اور بیرونی سرمایہ کاری

سوال : اسی سوال سے متعلقہ سوال یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت حکمرانی کا فقدان ہے۔ اس کی واضح دلیل ملک میں آئے روز بحرانوں کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔

جواب: ’’ یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ ہمارے بہت زیادہ رابطے ہیں اور فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے ہماری یہ خواہش ہے کہ بطور نیٹوممبر ہمارے دوست ممالک ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ان کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کو آسان رسائی ممکن ہو ہم امداد نہیں چاہتے بلکہ ہم تجارت کا فروغ چاہتے ہیں۔"

سوال :سب میرین کے حوالے سے سننے میں آیا ہے کہ کچھ معاہدے ہونے والے ہیں۔ان خبروں میں کہاں تک سچائی ہے؟

جواب: ’’ دفاعی تعاون کے کچھ معاہدے مستقبل میں ہونے والے ہیں لیکن اس بارے میں کچھ کہنا میرے خیال میں قبل ازوقت ہوگا۔"

سوال: بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے حفاظتی انتظامات ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں اس بارے میں آپ کیا کہیں گے۔؟

جواب: ”پاکستان میں پہلے بھی بہت زیادہ سرمایہ کاری ہوئی اورآئندہ بھی سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ ہوگا اور اس سلسلے میں ہم دہشتگردی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقدامات کررہے ہیں اورہم بیرونی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ سرمایہ کاری کےلئے پاکستان میں حالات نہایت موزوں ہیں۔"

Flash-Galerie Wahlen in Afghanistan 2009
افغانستان میں مزید امریکی فوج کی آمد سے متعلق پاکستان کا موقف واشنگٹن پر واضح کردیا گیا ہے۔ گیلانیتصویر: AP

افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کی آمد کے پاکستان پر اثرات

سوال :افغانستان میں امریکی افواج کے اضافے کے حوالے سے کیا آپ نے اپنے خدشات اور تحفظات کا امریکہ سے ذکر کیا ہے کیونکہ افغانستان میں امریکی افواج میں اضافے کا لامحالہ اثرپاکستان پر بھی پڑتا ہے؟

جواب: ’’ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد بڑھنے سے یقیناً پاکستان پر اثر پڑتا ہے ہم نے اس بارے میں امریکی حکام سے بات چیت کی ہے، سیکریٹری کلنٹن کے علاوہ امریکی دفاعی ماہرین اورمشیروں کے ساتھ بھی بات ہوئی ہے اس کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریسی وفود جو گاہے بگاہے پاکستان میں آتے ہیں ان سے بھی اس موضوع پر بات ہوتی رہتی ہے۔ حال ہی امریکی انتظامیہ کی طرف سے صدر صاحب کو ایک خط بھیجا گیا تھا جس کا جواب ہم نے بھجوا دیا ہے اس میں بھی ہم نے اپنے خدشات اورتحفظات کا تفصیلی ذکر کر دیاہے۔ اس میں ہم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر ہلمند میں امریکی اوراتحادی افواج کی تعداد میں اضافہ ہوا تو عسکریت پسند پاکستان کا رخ کریں گے۔ اس لئے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے دفاعی ماہرین ہمارے دفاعی ذمہ دار مل بیٹھ کر ایک باقاعدہ روڈ میپ ترتیب دیںتاکہ ہم عدم اعتماد کی فضاءکوکم کرنے کی کوشش کریں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کومزید فروغ دے سکیں ۔“

انٹرویو: امتیازگل،اسلام آباد

ادارت: عاطف بلوچ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں