1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دس ماہ میں نصف ملین سے زائد مہاجرین یونان پہنچے

مقبول ملک11 نومبر 2015

یورپی یونین کے سرحدی نگرانی کے ادارے فرنٹیکس کے مطابق اس سال کے پہلے دس مہینوں کے دوران یونین کے رکن ملکوں میں سے صرف یونان پہنچنے والے مہاجرین اور غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد پانچ لاکھ چالیس ہزار سے زائد رہی۔

https://p.dw.com/p/1H46P
Griechenland Flüchtlinge
تصویر: Reuters/A. Konstantinidis

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی بدھ گیارہ نومبر کو پولینڈ سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس سال یکم جنوری سے اکتیس اکتوبر تک سمندری راستوں سے یونان کے مختلف جزیروں تک پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد قریب ساڑھے پانچ لاکھ رہی، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران یونانی سرزمین پر پہنچنے اور اس طرح یورپی یونین کی حدود میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ بنتی ہے۔

فرنٹیکس نے، جس کے صدر دفاتر پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہیں، بتایا کہ ان قریب ساڑھے پانچ لاکھ تارکین وطن میں سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد بہت خراب موسمی حالات کے باوجود کشتیوں کے ذریعے ترکی سے مختلف یونانی جزیروں تک پہنچے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ 2014ء کے پہلے دس مہینوں میں ترکی سے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد صرف ساڑھے آٹھ ہزار رہی تھی لیکن اس سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ایسے پناہ گزینوں کی تعداد کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہو جانے کا مطلب اس میں قریب 18 گنا اضافہ ہے۔

Griechenland Flüchtlingsnot auf Lesbos
روں برس یکم جنوری سے اکتیس اکتوبر تک سمندری راستوں سے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد قریب ساڑھے پانچ لاکھ رہیتصویر: Reuters/A. Konstantinidis

دوسری طرف بحیرہ روم کے راستے لیبیا سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اب لیبیا کے ساحلوں سے انسانوں کو یورپ کی طرف اسمگل کرنے والے مجرموں کو کشتیوں کی کمی کا سامنا ہے۔

Frontex کے مطابق اس سال اکتوبر کے مہینے میں لیبیا سے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ساڑھے آٹھ ہزار رہی۔ یہ تعداد پچھلے سال اکتوبر میں اسی راستے سے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد کا نصف بنتی ہے۔ 2014ء میں لیبیا کے ساحلوں سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 55 ہزار تارکین وطن یورپ پہنچنے تھے۔ اس سال اب تک یہ تعداد ایک لاکھ 40 ہزار ہو چکی ہے۔