1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’حکام نے پر تشدد ذرائع استعمال کرتے ہوئے مہاجرين کو نکالا‘

عاصم سليم2 مارچ 2016

انسانی حقوق سے منسلک اداروں نے فرانسيسی حکام پر الزام عائد کيا ہے کہ وہ شمالی فرانس کے بندرگاہی شہر کالے ميں مہاجرين کے کيمپ کو منہدم کرنے کے عمل ميں ’بے رحمانہ کارروائيوں‘ کے مرتکب ہوئے ہيں۔

https://p.dw.com/p/1I5Us
تصویر: Reuters/P.Rossignol

انسانی بنيادوں پر امداد کے ليے کام کرنے والے ايک درجن سے زائد اداروں نے الزام عائد کيا ہے کہ فرانسيسی حکام کالے ميں قائم مہاجر کيمپ کو منہدم کرنے کے عمل ميں رحم دلانہ انداز ميں کام کرنے کے اپنے وعدے کی تکميل ميں ناکام رہے ہيں۔ اداروں نے الزامات کی ايک فہرست تيار کی ہے، جس پر چودہ ايسے اداروں کے نمائندگان کے دستخط ہيں۔

مہاجرين کو دھمکياں دے کر اور غلط معلومات مہيا کرتے ہوئے انہیں رہائش چھوڑنے کے ليے صرف دس منٹ تا ايک گھنٹے کا وقت ديا گيا تھا۔ جن تارکين وطن نے رضاکارانہ طور پر اپنی جھونپڑياں نہيں چھوڑيں، انہيں زبردستی وہاں سے نکالا گیا جبکہ چند ايک کو تو حراست ميں بھی لے ليا گيا۔

مقامی انتظاميہ کے مطابق کيلے کے اس بدنام زمانہ ’جنگل‘ کہلانے والے کيمپ ميں تقريباً 3,700 تارکين وطن مقيم ہيں
مقامی انتظاميہ کے مطابق کيلے کے اس بدنام زمانہ ’جنگل‘ کہلانے والے کيمپ ميں تقريباً 3,700 تارکين وطن مقيم ہيںتصویر: Reuters/P. Rossignol

پير انتيس فروری کو اس عمل کے آغاز پر اور پھر منگل کے روز بھی مشتعل تارکين وطن اور پوليس اہلکاروں کے مابين تصادم کی رپورٹيں موصول ہوئيں۔ لوہے کی راڈوں اور پتھروں سے ليس سينکڑوں پناہ گزينوں نے برہمی ميں برطانيہ کی جانب گامزن موٹر گاڑيوں پر دھاوا بول ديا اور چند مکانات کو نذ آتش بھی کيا۔ انسانی بنيادوں پر مدد کے ليے سرگرم اداروں کی جانب سے اس بارے ميں جاری کردہ بيان ميں يہ الزام بھی لگايا گيا ہے کہ پوليس نے مظاہرہ کرنے والے پناہ گزينوں کے خلاف ’فليش بالز‘، آنسو گيس، تيز دھار پانی اور ديگر پر تشدد عوامل کا استعمال کيا۔

يہ امر اہم ہے کہ فرانس کا بندرگاہی شہر کالے ايسے ہزاروں پناہ گزينوں کا گڑھ بنا ہوا ہے، جو سياسی پناہ کے ليے برطانيہ جانے کے خواہشمند ہيں۔ يہ معاملہ لندن اور پيرس کے مابين بھی ايک سياسی تنازعے کی صورت اختيار کر چکا ہے۔ جمعرات کے دن فرانسيسی صدر فرانسوا اولانڈ اور برطانوی وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون کی ملاقات ہونے والی ہے، جس ميں ممکنہ طور پر يہ معاملہ زير بحث آئے گا۔ دريں اثناء پير انتيس فروری سے کالے کے بدنام زمانہ مہاجر کيمپ کے جنوبی حصے کو منہدم کرنے کا عمل شروع کيا گيا اور اس سے متاثر ہونے والے پناہ گزينوں کے ليے متبادل انتظامات کيے گئے تاہم چند تارکين وطن اس سے خوش نہيں کيونکہ وہ اب بھی برطانيہ جانے کے خواہشمند ہيں۔