1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں زیادہ ہسپتال: ایک نعمت یا اقتصادی بوجھ؟

22 اپریل 2020

کورونا وائرس کی وبا نے جرمنی میں زیادہ ہسپتالوں کی بحث کو پھر سے شروع کر دیا ہے۔ ہسپتالوں کی زیادہ تعداد کووڈ انیس سے نمٹنے ميں انتہائی مفید رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/3bFg5
تصویر: picture-alliance/AP Photo/F. Rumpenhorst

حالیہ چند مہینوں میں جرمن ہیلتھ سیکٹر اور ہیلتھ اکانومی کے ماہرین اس بارے ميں زور و شور سے بحث کر رہے تھے کہ جرمنی میں ضرورت سے زیادہ ہسپتال موجود ہیں اور ان میں سے بہت ساروں کو بند کرنا بہتر رہے گا۔ دوسری جانب کورونا وائرس کی وبا کے دوران بیرون جرمنی یہ سوال گردش کرتا رہا ہے کہ بقیہ یورپی ملکوں کی طرح اس ملک میں ہلاکتیں انتہائی زیادہ نہیں رہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خاص طور پر فرانس، اٹلی اور اسپین میں جتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں، ان کے مقابلے میں جرمنی میں اور کورونا وائرس کا پھيلاؤ اور ہلاکتیں قابو میں رہی ہیں۔

اس تناظر میں یورپی تنظیم برائے اقتصادی و ترقیاتی تعاون (OECD) نے جو بڑی وجہ بیان کی ہے اُس کے مطابق جرمنی میں ہسپتالوں کی زیادہ تعداد اور آبادی کے تناسب کے لحاظ سے انتہائی نگہداشت کے یونٹ بھی فرانس سے دوگنا اور اٹلی یا اسپین سے چار گنا زیادہ ہیں۔ تنظیم نے مزید کہا کہ زیادہ ہسپتالوں کی وجہ سے جرمنی ایک بہت بڑی مصیبت سے محفوظ رہا۔ خیال کیا گیا کہ اب بظاہر اُن آوازوں پر خاموشی چھا گئی ہے جو جرمنی میں زیادہ ہسپتالوں میں کمی لانے کو وقت کی ضرورت قرار دیتی تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں ایک لاکھ شہریوں کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹس میں اوسطاً 33.9 فیصد بستر موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں فرانس میں ایک لاکھ آبادی کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹس میں 16.3 فیصد بستر دستیاب ہیں جب کے اٹلی میں اتنی ہی آبادی کے لیے 8.6 فیصد بستر ہیں۔ امریکا میں ایک لاکھ آبادی کے لیے انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں بستر کی دستیابی کا تناسب تیس فیصد ہے۔

اعداد و شمار میں بہتری اپنی جگہ لیکن جرمنی میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے قبل برٹلزمان فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ حکومت کو پیش کی گئی تھی اور اس میں تجویز کیا گیا تھا کہ ملک میں ہسپتالوں کی تعداد کو کم کر کے انتہائی بڑے ہسپتال کو سامنے لایا جائے۔ اس رپورٹ میں ایک بڑی تعداد میں ہسپتالوں کو بند کردينے کی بھی تجویز دی گئ تھی۔ برٹلزمان فاؤنڈیشن نے کل چودہ سو ہسپتالوں میں سے آٹھ سو کو غیر ضروری، اضافی اور اقتصادی بوجھ خیال کیا تھا۔ فاؤنڈیشن نے اپنی رپورٹ میں صرف چھ سو ہسپتالوں کو فعال رکھنا اہم قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق جرمنی کے کئی چھوٹے ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی ہے اور ان میں ناقص طبی آلات زیر استعمال ہیں۔ ہسپتالوں کی تعداد میں کمی لانے کی رپورٹ کو مرتب کرنے میں انسٹیٹیوٹ برائے گلوبل اینوائرنمنٹل اسٹریٹیجیز (IGES) بھی شامل تھا۔

کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں اب پہلے سے چھڑی ہوئی بحث میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ زیادہ ہسپتال جرمنی کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئے ہیں اور ان کی وجہ سے کووڈ انیس بیماری کے مریضوں کی تعداد کے علاوہ اموات بھی کنٹرول میں رہی ہیں۔ اس حلقے کا کہنا ہے کہ اگر گزشتہ برس مرتب کی جانے والی برٹلز مان فاؤنڈیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد ہو جاتا تو حالیہ مہلک وبا کے دور میں انتہائی نگہداشت کے یونٹس کم ہوتے اور مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔

اندریاس بیکر (ع ح، ع ا)