1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتیورپ

ترکی اور یونان میں اکثر جھگڑا کیوں ہوتا رہتا ہے؟

7 اگست 2022

یوکرین کی جنگ کے اثرات اس دیرینہ علاقائی تنازعے پر بھی پڑ رہے ہیں۔ یونان کے خلاف ترکی کا لہجہ جہاں زیادہ جارحانہ ہوا ہے، وہیں اس حوالے سے اس نے جرمنی کی سفارتی مداخلت پر بھی تنقید کی ہے۔

https://p.dw.com/p/4FACq
Griechenland Recep Tayyip Erdogan, Staatspräsident der Türkei
تصویر: Turkish Presidency via AP/picture alliance

بحیرہ روم کے حوالے سے ہتھیاروں کی ہلچل اس لیے حیران کن لگ سکتی ہے کہ بالآخر ترکی اور یونان دونوں ہی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ہیں۔ نیٹو اتحاد کا مقصد ایک ساتھ مل کر اس رکن ملک کا دفاع کرنا بھی ہے جسے کسی مشترکہ دشمن کا سامنا ہو۔ تاہم اس کے باوجود یہ دونوں پڑوسی ملک اکثر باہمی کشمکش کی دہلیز پر کھڑے نظر آتے ہیں۔

یونان کے دفاعی بجٹ کا حجم یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فی الوقت کتنا خطرہ محسوس کر رہا ہے، نیٹو کے کسی بھی دیگر رکن کے مقابلے میں وہ سب سے زیادہ اپنے سالانہ بجٹ کا 3.8 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔

مشرقی بحیرہ روم کے جزائر کے حوالے سے اکثر جھگڑے ہوتے رہے ہیں۔ یہ سمندر میں سرحدوں پر اپنے دعووں کے بارے میں ہے، اور اس کا تعلق جزائر پر پائی جانے والی گیس جیسے قیمتی قدرتی وسائل سے بھی ہے۔

سن 1996 میں چھوٹے اور غیر آباد جزیرے ایمیا پر اختلافات اس قدر بڑھے کہ دونوں ملک جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے۔ سن 2020 میں بھی قدرتی گیس کے تنازعے پر اتنی کشیدگی بڑھی کہ خطے میں ایک اور سنگین مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔ اب اگلے ہفتے ایک ترک ڈرلنگ جہاز قدرتی گیس کی تلاش کے لیے روانہ ہونے والا ہے۔

نیٹو کے رہنماؤں کو ان دونوں کے درمیان جھڑپوں کو روکنے کے لیے مجبوری میں بار بار قدم اٹھانا پڑتا ہے سن 2020 میں جرمنی کی سابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل، جنہیں یورپ کے ساتھی رہنماؤں کی بھی حمایت حاصل تھی، دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس تنازعے میں ثالثی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ترکی مشرقی ایجیئن کے کئی جزائر پر یونان کی خود مختاری پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس میں روڈس، لیسبوس، ساموس اور کوس جیسے جزائر شامل ہیں۔ یونان کا کہنا ہے کہ ترکی کے جیٹ طیاروں کو تقریباً روزانہ کی بنیاد پر یونانی جزائر پر پرواز کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور اسی لیے اس نے ان پر  اپنی فوج تعینات کر رکھی ہے۔

ترکی اس حوالے سے سن 1923 کے لوزان معاہدے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کے تحت یونان-ترک جنگ کے بعد موجودہ سرحد کا نقشہ تیار کیا گیا تھا اور اس کے تحت لیسبوس، چیوس، ساموس اور آئیکاریا کے مردار جزائر پر یونان کا کنٹرول دیا گیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سن 1947 کے معاہدہ پیرس کے تحت اٹلی نے بھی ڈوڈیکنیز جزائر یونان کے حوالے کر دیے تھے۔ لیکن ان دونوں معاہدوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان جزائر کو فوجی سرگرمیوں سے پاک رکھا جائے گا اور وہاں عسکری تعیناتی درست نہیں ہے۔

 تاہم اس کے باوجود یونان ترکی کے مغربی ساحل پر اترنے والی کشتیوں کا حوالہ دے کر اپنے دفاع کی ضرورت کے لیے جزائر پر فوجیوں کی موجودگی کا جواز پیش کرتا ہے۔

Iran beschlagnahmt zwei griechische Tanker im Persischen Golf
تصویر: picture alliance / ASSOCIATED PRESS

دونوں جانب انتہا پسندی کا جوش

ان جزائر کے حوالے سے دونوں میں تصادم کی ایک طویل روایت ہے، تاہم اس پر حالیہ شو ڈاؤن خاص طور پر شدید تھا۔ ترکی کی حکومت میں شامل ایک ترک قوم پرست جماعت ایم ایچ پی کے ایک رہنما دیلوت بائچی نے اس حوالے سے اپنی ایک تصویر کھنچوائی جس میں وہ ہتھیار لیے ہوئے ہیں اور، جس میں مشرقی ایجیئن کے تمام اہم جزائر کو ترکی کی ملکیت میں دکھایا گیا۔

ادھر گھریلو مسائل بھی سیاست دانوں کو بھڑکا رہے ہیں۔ ترکی میں آئندہ برس صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ صدر ایردوآن اور ان کی جماعت اے کے پی کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ انتخابات میں زبردست دھچکا لگ سکتا ہے۔ اس وقت بے تحاشہ مہنگائی ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ لہٰذا، رجحان یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ ان کے حقیقی مسائل سے ہٹا کر خارجہ پالیسی کی طرف موڑ دی جائے۔

لیکن یونانیوں میں بھی جھنجھلاہٹ کم نہیں ہے، گرچہ یہ عام طور پر حکومت کے ارکان کی جانب سے نہیں ہوتی ہے۔ یونانی ٹی وی پر بحث کے دوران ایک سابق وائس ایڈمرل، یانیس ایگولفوپولوس، یہ کہتے ہوئے اشتعال دلاتے ہیں کہ آخر ترکوں کو کیسے سبق سکھایا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں، ''بس ترکوں کو پہلا قدم اٹھانے دیں، پھر وہ کچھ اس چیز کا تجربہ کریں گے، جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا نہیں ہو گا۔

کیا جرمنی غیر جانبدار ہے؟

اس تنازعہ پر جرمنی کا  موقف کیا ہے؟ جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک نے دونوں ممالک کے اپنے حالیہ دورے کے دوران جزائر کی خود مختاری کے سوال پر کہا، ''یونانی جزائر یونانی علاقہ ہیں اور کسی کو بھی اس پر سوال اٹھانے کا حق نہیں ہے۔''

اس پر ترک وزیر خارجہ مولود چاؤس اولو نے کہا، ''ہم چاہتے ہیں کہ جرمنی مشرقی بحیرہ روم اور ایجیئن کے معاملے میں اپنا متوازن موقف برقرار رکھے۔'' انہوں نے مزید کہا کہ برلن کو ''خاص طور پر یونان اور یونانی قبرص کی جانب سے اشتعال انگیزی اور پروپیگنڈے کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔''

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں برلن کو بغیر کسی تعصب کے دونوں فریقوں کو سننے کی ضرورت ہے۔

Iran beschlagnahmt zwei griechische Tanker im Persischen Golf
تصویر: Thanassis Stavrakis/AP/picture alliance

ادھر یونان کو لگتا ہے کہ جرمنی کا موقف منصفانہ نہیں ہے۔ یونانی وزیر خارجہ نکوس ڈینڈیا نے ترکی کو آبدوزوں کی فروخت سمیت جرمن ہتھیاروں کی برآمدات کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''اس بات کا حقیقی خطرہ ہے کہ یہ آبدوزیں بحیرہ روم میں طاقت کے توازن کو خراب کرنے کے لیے استعمال ہوں گی۔''

واشنگٹن کی حمایت حاصل کرنے میں مسابقت

جہاں تک ان جزائر کے جھگڑے کی بات ہے، تو جرمنی حقیقت میں تنازعے میں ثانوی کردار ہی ادا کر رہا ہے۔ یونان اور ترکی کے سربراہان مملکت اور حکومتیں سب کی کوشش یہی ہے کہ وہ اس حوالے سے واشنگٹن کی پشت پناہی حاصل کر لیں۔

ابتدا میں تو ایسا لگتا تھا کہ یونانی وزیر اعظم کریاکوس مٹسوٹاکس اس میں آگے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے مئی کے وسط میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں سے خطاب بھی کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی حکام سے ترکی کو ایف 35 جنگی طیارے نہ فراہم کرنے کی پر زور وکالت کی تھی۔

لیکن پھر میڈرڈ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے چند ہفتوں کے بعد ہی صدرجو  بائیڈن نے ان جنگی طیاروں کی فراہمی کے امکانات کو بھی ظاہر کیا، تاکہ نیٹو میں سویڈن اور فن لینڈ کی شمولیت کے لیے ترکی کی حمایت حاصل کی جا سکے۔

یوکرین جنگ کی وجہ سے ترک حکومت فائدے میں ہے۔ ترکی کی جانب سے روسی ساختہ طیارہ شکن میزائلوں کی خریداری پر واشنگٹن کافی ناراض تھا تاہم اب نئی صورت حال میں بظاہر اسے بھلا دیا گیا ہے۔ اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی بحرانی صورت میں نیٹو کے اراکین کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

(کرسٹوف ہیسلباخ)  ص ز/ ج ا

ترک لیرا کی قدر کم، بلغاریہ اور یونان کے شہریوں کی موج

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید