1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’ بے بس و نالاں نابالغ مہاجر بچوں ميں خودکشی کا رجحان‘

4 ستمبر 2018

يونانی جزيرے ليسبوس کے موريا کيمپ ميں مہاجرين کو درپيش ابتر صورتحال کی رپورٹيں آتی ہی رہتی ہيں تاہم اب وہاں کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ وہاں بچے خود کشی کی کوشش کر رہے ہيں۔

https://p.dw.com/p/34G1V
Griechenland Lesbos - Flüchtlinge auf dem weg zum Moria Camp nahe der Stadt Mitylene
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/B. Langer

ليسبوس پر مہاجرين سے متعلق امدادی سرگرميوں کے کوآرڈينيٹر لوکا فونٹانا نے يہ انکشاف کيا ہے کہ موريا کيمپ ميں بچے خود کشی پر اتر آئے ہيں۔ ڈی ڈبليو سميت چند ديگر يورپی نشرياتی اداروں سے چلنے والی ويب سائٹ انفومائگرينٹس کو ديے اپنے ايک خصوصی انٹرويو ميں فونٹانا نے بتايا، ’’موريا کيمپ ميں بہت سے ايسے بچے ہيں جو خود کو جسمانی نقصان پہنچانے لگے ہيں اور چند ايسے بھی ہيں، جو خود کشی سے متعلق خيالات و رجحانات کے سبب پوری پوری رات سو نہيں پات۔‘‘ فرانسيسی امدادی تنظيم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ سے منسلک اس اہلکار نے موريا کيمپ کو ايک جنگل سے تعبير کرتے ہوئے بتايا کہ وہاں کے حالات دن بدن مزيد بگڑ رہے ہيں۔

لوکا فونٹانا نے بتايا کہ سب سے زيادہ نازک سمجھے جانے والے بچوں کو ان کے ادارے کی جانب سے نفسياتی مدد فراہم کی جا رہی ہے تاہم يہ ناکافی ہے کيونکہ ليسبوس پر نفسياتی ماہر يا سائيکالوجسٹ موجود نہيں اور چوں کہ ان بچوں کو دارالحکومت ايتھنز نہيں لے جايا جا رہا، انہيں مناسب مدد نہيں مل رہی۔

ذہنی امراض کے حل کے ليے ايم ايس ايف کی ايک کلينک ليسبوس کے صدر مقام ميتيلينی ميں ہے اور يہ اس پورے جزيرے کی واحد ايسی کلينک ہے، جو متاثرہ تارکين وطن کو اس قسم کی مدد فراہم کر رہی ہے۔ فونٹانا نے بتايا کہ ذہنی دباؤ کے شکار بچے اس کيمپ ميں اکثر ساتھ مل کر تصاوير بناتے ہيں اور يہ تصاوير ان مشکلات اور رکاٹوں کی عکاسی کرتی ہيں، جو ان بچوں نے اپنے ملکوں اور پھر پناہ کے دوران کے دوران ديکھيں۔ ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے اس اہلکار نے بتايا کہ فی الحال کسی بھی بچے نے باقاعدہ خود کشی کی نہيں ہے ليکن اس کی وجہ صرف يہی ہے کہ کيمپوں ميں وہ بالکل تنہا نہيں ہوتے۔

موريا کيمپ ميں پناہ ليے ہوئے مہاجرين کی اکثريت کا تعلق شام، افغانستان، عراق، سوڈان اور کانگو سے ہے، گو کہ وہاں پاکستانی بھی درجنوں کی تعداد ميں موجود ہيں۔ يہ تارکين وطن مسائل سے اس قدر تھک چکے ہيں کہ ان ميں سے کئی کی خواہش ہے کہ وہ اپنے وطن واپس چلے جائيں۔ شامی قناہ گزين قاسم نے ايم ايس ايف سے کہا کہ اگر اس کے ملک ميں کہيں بھی امن ہو، تو وہ وہاں چلا جائے۔ دير الزور سے تعلق رکھنے والے قاسم کی خواہش ہے کہ شام دوبارہ پر امن ہو اور وہ اپنے ملک ميں ہی رہ سکے۔

لوکا فونٹانا نے بتايا کہ موريا کيمپ ميں تين ہزار پناہ گزينوں کی گنجائش ہے ليکن اس وقت وہاں قيام پذير افراد کی تعداد ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد ہے۔ ان ميں لگ بھگ تين ہزار بچے ہيں اور يہ سب خيموں ميں گزر بسر کر رہے ہيں۔ ہر پچاس سے ساٹھ افراد کے ليے ايک بيت الخلاء کا انتظام ہے اور کھانے کے ليے کبھی کبھی تين تين گھنٹے قطاروں ميں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔

ع س / ع ت، انفومائگرينٹس