1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بیون ٹیک: ویکسین کی تیاری میں ترک نژاد میاں بیوی کا ہاتھ

10 نومبر 2020

جرمن کمپنی بیون ٹیک اپنی نئی ویکسین کی ہنگامی منظوری کے لیے سرگرم ہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف اس غیر معمولی اہمیت کی حامل ویکسین کے پیچھے ترک نژاد جرمن میاں بیوی اووگر شاہین اور اُزلم توریچی کا ہاتھ ہے۔

https://p.dw.com/p/3l6Hx
Ugur Sahin und seine Frau Özlem Türeci
تصویر: Stefan F. Sämmer/imago images

اس پروجیکٹ کا نام ''لائٹ اسپیڈ‘‘ تھا، جس پر کام کا آغاز جرمن کمپنی بیون ٹیک (BioNTech) نے اپنی امریکی پارٹنر کمپنی فائزر  کے ساتھ مل کر رواں برس جنوری کے وسط میں کر دیا تھا۔ اس کمپنی نے کورونا کے خلاف ویکسین بنانے کا کام ایک ریکارڈ وقت کے اندر سر انجام دیا اور تب سے اس ویکسین پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ عام طور سے کسی ویکسین کی تیاری میں آٹھ سے دس سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ لیکن اس بار جرمن شہر مائنز سے تعلق رکھنے والے ان محققین نے ایک سال کے اندر اندر اس ویکسین کو تیار کر کے اس کی منظوری کے لیے اسے امریکا تک پہنچانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

 نومبر کے وسط تک اس کی تیاری کا عمل مکمل  ہو جائے گا، جس کے بعد جرمن کمپنی بیون ٹیک اور اس کی امریکی پارٹنر کمپنی فائزر اس کی منظوری کے لیے درخواست دیں گی۔ اس طرح کورونا ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں دنیا بھر کے ممالک کے مابین، جو مقابلے کی دوڑ جاری ہے، اُس میں یہ ایک جرمن اور ایک امریکی ادویات ساز کمپنی مغربی دنیا میں پہلے نمبر پر ہوں گے۔

 اس ضمن میں یورپی دوا ساز ریگیولیٹری اتھارٹی 'ای ایم اے‘ نے اکتوبر کے آغاز میں اس ویکسین کی منظوری کے حصول کا کام شروع کر دیا تھا۔ اس ویکسین کی حتمی جانچ کے لیے اسے دس ہزار افراد پر آزمایا جا رہا ہے۔ ای ایم اے کے مطابق منظوری کے عمل کو تیز رفتار کرنے کے لیے اب عبوری نتائج کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ ای ایم اے نے کہا ہے کہ منظوری کے فیصلے کے لیے، جب تک کافی معلومات دستیاب نہیں ہو جاتیں، تب تک عبوری جانچ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

Coronavirus | Impfstoff | Pfizer
اس ضمن میں یورپی دوا ساز ریگیولیٹری اتھارٹی 'ای ایم اے‘ نے اکتوبر کے آغاز میں اس ویکسین کی منظوری کے حصول کا کام شروع کر دیا تھا۔تصویر: Zeljko Lukunic/PIXSELL/picture alliance

مدافعتی نظام کی مدد سے تھراپی

بائیوٹیک کمپنی بیون ٹیک کے پیچھے دو اہم افراد اووگر شاہین اور اُزلم توریچی ہیں۔ اس سال جنوری کے شروع میں، جب چین میں کورونا وائرس پھیل رہا تھا اور جرمنی میں شاید ہی کوئی اس وبائی مرض کو سنجیدہ لے رہا تھا، تب ہی ان دو ڈاکٹروں نے اپنی تحقیق کا آغاز کر دیا تھا۔ تین ماہ بعد ویکسین کے امیدوار ان کے کلینیکل تجربے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار تھے۔
اب تک ان دونوں سائنسدانوں نے کینسر کے خلاف جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی تھی۔ روایتی کینسر کے علاج سے ان کا نقطہ نظر نمایاں طور پر مختلف ہے۔ ان دونوں محققین کا ماننا ہے کہ چونکہ کینسر کے کوئی بھی دو مریض ایسے نہیں ہوتے ہیں، جن میں کینسر کے خلیوں میں جینیاتی تغیرات بالکل ایک جیسی ہوں۔ اس لیے کینسر کے مریضوں کو سرجری، کیموتھراپی یا تابکاری کے طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ یکساں یا ایک ہی انداز میں ٹریٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔

ان دونوں ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ہر مریض کو ایک علیحدہ طریقے کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان کے مطابق ان کی بیماری کی نوعیت کے حساب سے تیار اور فراہم کیا جانا چاہیے۔

یہ ڈاکٹر اس حقیقت کے قائل ہیں کہ جب بیکٹیریا یا وائرس کا حملہ ہوتا ہے تو انسانی جسم اکثر خود ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ان کا ہدف ایک ایسی امیونو تھراپی تیار کرنا ہے، جو مدافعتی نظام کو متحرک کرے۔

بیون ٹک کی بنیاد

2001 ء میں ان ترک نژاد جرمن ڈاکٹروں نے بائیو فارما سیوٹیکل '' گینیمیڈ‘‘ کی بنیاد رکھی، جو 'امیونو تھیراپوئیٹک‘ کینسر کے خلاف ادویات تیار کرتی ہے۔ بعدازاں یہ کمپنی میں 422 ملین یورو میں فروخت کر دی گئی۔ اس کے بعد 2008 ء میں اووگر شاہین اور اُزلم توریچی نے کمپنی بیون ٹیک کی بنیاد رکھی۔

Symbolbild Corona Impfstoff Biontech und Pfizer BNT162bt
جرمن کمپنی نے امریکی کمپنی فائزر کے تعاون سے تیار کردہ ویکسین کے 90 فیصد تک کارآمد ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔تصویر: Jens Krick/Flashpic/picture alliance

 اس کمپنی کا مر کزی کام انفرادی کینسر کیسز کی امیونوتھراپی کے لیے ٹیکنالوجیز اور ادویات تیار کرنا تھا۔ ان کی ایجادات میں سے کسی کو بھی منظوری حاصل نہ ہو سکی۔ اووگر شاہین کمپنی بیون ٹیک کے سی ای او ہونے کے ساتھ ساتھ مائنز یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی ہیں۔ ان کی اہلیہ اُزلم توریچی اس کمپنی کی میڈیکل ڈائریکٹر ہیں اور ان کی ذمہ داریوں میں کلینیکل ترقیاتی کام شامل ہیں۔ یہ بھی مائنز یونیورسٹی میں لیکچرر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔

شاہین چار سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ ترکی سے جرمن شہر کولون آ گئے تھے۔ کالج کے بعد اُنہوں نے کولون یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔  اب یہ 54 سالہ محقق کینسر کے خلیوں کی نشاندہی کرنے اور ان کے علاج کے لیے طبی ذرائع اور طریقوں پر ریسرچ کر رہے ہیں۔

 شاہین کا کہنا ہے کہ وہ محض بیس سال کے تھے، جب انہوں نے لیبارٹری میں تحقیقی کام کرنا شروع کیا تھا۔ 1992ء میں شاہین نے کولون یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور بعدازاں کولون یونیورسٹی کلینک میں 'ہیمیٹولوجی اور آنکولوجی‘ کے شعبے میں خدمات انجام دینے لگے۔ 1999ء میں 'پوسٹ ڈاکٹرل تھیسس‘ مکمل کرنے کے بعد شاہین صوبے زارلینڈ کی یونیورسٹی کلینک چلے گئے۔ وہاں ان کی ملاقات  اُزلم توریچی سے ہوئی، جو بعد میں ان کی شریک حیات بن گئیں۔

اس جوڑے کی ایک طویل مدت سے جاری جدوجہد اب ثمربار ثابت ہو رہی ہے۔ اووگر شاہین کے پاس اس وقت کمپنی بیون ٹیک کے اٹھارہ فیصد حصص ہیں۔ اس کمپنی کی شہرت اور  اس کامیابی کے ساتھ مستقبل میں ان کا نام جرمنی کے امیرترین شہریوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

انسا وریدے، ک م/ اا

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں