1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی معیشت میں مزید ترقی کے روشن امکانات

6 جنوری 2011

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھارت کی اقتصادی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی معیشت دنیا کی سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں ترقی کے امکانات بڑے روشن ہیں۔

https://p.dw.com/p/zuEP
بھارت میں بنیاری ڈھانچے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہےتصویر: AP

اس بین الاقومی مالیاتی ادارے نے کہا کہ بھارت عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے اس طرح باہر نکلا ہے کہ سن 2009 کے وسط سے اس کی معیشت میں بحالی کے بڑے مضبوط شواہد دیکھنے میں آئے ہیں۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ گزشتہ قریب ڈیڑھ سال کے عرصے میں بھارتی اقتصادی منڈی میں داخلی طلب میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں خاص طور پر ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں کی جانے والی بہت زیادہ سرمایہ کاری کو بھی سراہا گیا۔

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق آئی ایم ایف نے بھارت کی اقتصادی کارکردگی سے متعلق اپنا وہ جائزہ مکمل کر لیا ہے، جسے عام طور پر اس ادارے کی ’آرٹیکل چار کے تحت کی جانے والی مشاورت‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

Logo IMF Internationaler Währungsfond

اس مشاورت کے دوران مالیاتی فنڈ کے ڈائریکٹرز نے بھارت میں اقتصادی شعبے کے اعلیٰ حکام کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ انہی اقدامات کے باعث بھارت عالمی مالیاتی بحران کے اثرات کا اچھی طرح مقابلہ کرنے کے قابل ہوا۔

اس مشاورت کے اختتام پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے کہا کہ بھارت دنیا میں آبادی کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ وہ ایک بہت بڑی اقتصادی منڈی بھی ہے۔IMF ،کے مطابق ’’ بھارت میں اقتصادی ترقی کی شرح دنیا بھر میں انتہائی تیز رفتار ہے۔ وہاں سماجی حالات بھی بہتر ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ درمیانی مدت کے لیے بھارت میں اقتصادی ترقی کے امکانات بھی بڑے حوصلہ افزا اور سود مند ہیں۔‘‘

تاہم IMF کے بورڈ نے یہ بھی کہا کہ ان حالات کے باوجود بھارت میں افراط زر کی کافی اونچی شرح کا خطرہ بھی موجود ہے۔ ’’اس ملک میں سرمائے کی آمد بہت زیادہ ہے اور سرمایہ کاروں کو بڑے فائدے بھی ہو رہے ہیں۔‘‘

واشنگٹن میں قائم اس بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے مطابق مالی سال دو ہزار دس اور گیارہ کے دوران بھارت کی مجموعی قومی پیداوار یا GDP میں 8.75 فیصد تک کا اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ اگلے مالی سال میں یہی شرح تھوڑی سے کم ہو کر آٹھ فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

بھارت میں موجودہ مالی سال کے دوران افراط زر کی شرح ممکنہ طور پر آٹھ اور دس فیصد کے درمیان رہے گی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں