1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت اور طالبان کے درمیان کابل میں پہلی بات چیت

جاوید اختر، نئی دہلی
2 جون 2022

بھارت کا ایک اعلی سطحی وفد طالبان کے سینیئر عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کے لیے کابل پہنچا ہے۔ گزشتہ برس امریکہ کے افغانستان سے اچانک انخلاء اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی حکام کا یہ پہلا دورہ ہے۔

https://p.dw.com/p/4CB71
Afghanistan I Lage in Kabul spitzt sich zu I 16.08.2021
تصویر: Gulabuddin Amiri/AP/picture alliance

بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعرات 2 جون کو جاری ایک بیان میں بھارتی حکام کے کابل پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے، "بھارتی ٹیم طالبان کے سینیئر اراکین کے ساتھ ملاقات کرے گی اور افغانستان کے عوام کو بھارت کی جانب سے انسانی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کر ے گی۔"

اس وفد کی قیادت بھارتی وزارت خارجہ میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے جوائنٹ سکریٹری جے پی سنگھ کر رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل دوحہ میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کر چکے ہیں۔

دورے کی اہمیت

بھارتی وفد کا کابل دورہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ نئی دہلی نے طالبان انتظامیہ کو اب تک تسلیم نہیں کیا ہے اور بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو تسلیم کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لے۔

بھارت نے گزشتہ برس اگست میں افغانستان میں اپنے سفارت خانہ اور قونصل خانے بند کر دیے تھے اور اپنے تمام عملے کو واپس بلا لیا تھا۔ گزشتہ ماہ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا اسے اس بات کا کوئی علم نہیں کہ افغانستان میں سفارت خانہ کب کھل سکے گا۔

Afghanistan Beginn der Impfung gegen Covid-19
نئی دہلی اب تک بیس ہزار میٹرک ٹن گیہوں، 13 ٹن دوائیں، کووڈ ویکسین کے پانچ لاکھ انجیکشن بھیج چکا ہےتصویر: Rahmat Gul/AP/picture alliance

افغانستان سے اپنے تمام سفارت کاروں کو واپس بلا لینے اور طالبان کو تسلیم نہیں کرنے کے باوجود بھارت نے افغان عوام کی انسانی ضرورتوں کے تئیں ہمدردانہ رویہ اختیار کیا ہے اور اس سال کے اوائل سے وہاں دوائیں، طبی سازوسامان اور اناج بھیج رہا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی اب تک بیس ہزار میٹرک ٹن گیہوں، 13 ٹن دوائیں، کووڈ ویکسین کے پانچ لاکھ انجیکشن اور موسم سرما کے کپڑے بھیج چکا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید اناج اور دوائیں افغانستان بھیجی جائیں گی۔ جبکہ ایران میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے لیے کووڈ ویکسین کی دس لاکھ ڈوز تہران بھیجی گئی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے کہ بھارتی وفد کے کابل دورے کا مقصد افغانستان میں بھارتی انسانی امداد کی ترسیل کا جائزہ لینا ہے۔ وفد کے اراکین وہاں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والی بین الاقوامی تنظیموں کے اراکین سے بھی ملاقات کریں گے اور مختلف مقامات پر بھارتی پروجیکٹوں کے نفاذ کا جائزہ لیں گے۔

 وزیر دفاع ملا یعقوب
وزیر دفاع ملا یعقوبتصویر: Ali Khara/REUTERS

افغان بھارتی امداد کا خواہاں

 طالبان حکومت میں وزیر دفاع ملا یعقوب نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ بھارت افغانستان کو ماضی کے مقابلے کہیں زیادہ امداد فراہم کرے گا۔

ملا محمد عمر کے بیٹے ملا یعقوب نے ایک بھارتی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "جب طالبان حکومت قائم ہوئی تھی تو بھارت نے انسانی امداد فراہم کی تھی اور تعاون کیا تھا۔ ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور اس کے لیے ممنون ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بھارت اپنا تعاون جاری رکھے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ان ملکوں میں سے ایک ہے جس کے ساتھ افغانستان کے تعلقات اچھے رہے ہیں۔

افغانستان میں جیش محمد اور لشکر طیبہ کے عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر بھارتی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی تشویش کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ملا یعقوب کا کہنا تھا، "میں یقین دلانا چاہوں گا کہ ہم افغانستان کی سرزمین سے کسی دوسرے ملک کے خلاف کسی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم نہ تو پاکستان کو بھارت کے خلاف اور نہ ہی بھارت کو پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے دیں گے۔"

طالبان وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، "ہم کسی کے داخلی مسائل میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم ہماری خواہش ہے کہ دونوں ملک اپنے مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعہ حل کر لیں۔"

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید