1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی عدالتی کارروائی کے منتظر

11 نومبر 2011

بھارت میں سپریم کورٹ نے دو سو پچاس سے زائد پاکستانیوں کو مقدمے کی سماعت کے بغیر بھارتی جیلوں میں قید رکھنے پر تشویش ظاہر کی ہے اور اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

https://p.dw.com/p/1391s
تصویر: Fotolia/rudall30

ان قیدیوں میں سے بعض 1965ء سے مختلف بھارتی جیلوں میں قید ہیں لیکن ابھی تک کسی عدالتی کارروائی تک انہیں دسترس حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

معروف بھارتی روزنامے انڈین ایکسپریس کے مطابق جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے سربراہ بھیم سنگھ کی جانب سے مفاد عامہ میں دائر کی گئی ایک درخواست میں یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ بغیر کسی عدالتی کارروائی کے بھارتی جیلوں میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد قید ہے۔ سپریم کورٹ کے جج آر این لودھا کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی کاروائی کے دوران مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ مختلف بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ مرتب کی جائے ۔

Pakistanische Gefangene am Grenzübergang Attari-Wagah
پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کے تبادلے اکثر ہوتے رہتے ہیںتصویر: UNI

بنچ کے سربراہ جسٹس آر این لودھا نے عدالتی کارروائی کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ 254 سے زائد پاکستانی شہریت کے حامل افراد بغیر کسی عدالتی کارروائی کے بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ان قیدیوں میں سے زیادہ تر افراد کو جموں و کشمیرکے شمال مغربی علاقے کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر اس جرم میں بند ہیں کہ وہ غلطی سے سرحد عبور کر کے بھارتی سرزمین میں داخل ہوئے تھے۔ بھارتی سپریم کورٹ کو مزید بتایا گیا کہ ان قیدیوں میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ ان خواتین کو بلاتاخیر اپنے ملک واپس بھجوانے کے حوالے سے حکومتی مؤقف کی وضاحت کریں۔ بنچ نے حکومت کو تنبیہہ کی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بھارتی جیلوں میں قید تمام غیر ملکی قیدیوں کے بارے میں مکمل معلومات عدالت کو فراہم کی جائیں۔

یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر مزید کئی ایسے قیدی بھارت کی مختلف ریاستوں میں بغیر کسی عدالتی سماعت کے جیلوں میں قید ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں کے تبادلے اکثر ہوتے رہتے ہیں تاہم ان قیدیوں میں زیادہ تعداد ان ماہی گیروں کی ہوتی ہے جو غیر دانستہ طور پربحری حدود کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔

Flash-Galerie Gipfeltreffen der südasiatischen Staaten in den Malediven
سارک تنظیم کے سربراہی اجلاس میں پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقاتتصویر: dapd

ایک دوسرے کے روایتی حریف تصور کیے جانے والے پاکستان اور بھارت ماضی میں تین جنگیں بھی لڑ چکے ہیں تاہم حال ہی میں مالدیپ میں منعقدہ سارک تنظیم کے سربراہی اجلاس میں دونوں ملکوں کے درمیان تفصیلی مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے ہیں۔ پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات کے دوران بھی دونوں ملکوں نے تمام تصفیہ طلب مسائل بشمول جموں و کشمیر، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے کے لیے حال ہی میں ہونے والی ایک اہم پیشرفت میں پاکستان نے بھارت کو تجارتی مقاصد کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: حماد کیانی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں