1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: لڑکیوں کی شادی کی کم ازکم قانونی عمر اب 21 برس

جاوید اختر، نئی دہلی
16 دسمبر 2021

مودی کابینہ نے 'چائیلڈ میرج ایکٹ' میں ترمیم کرتے ہوئے لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر لڑکوں کے برابر یعنی 21 برس کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ فی الحال 18برس کی لڑکیوں کو بھی شادی کی قانوناً اجازت حاصل ہے۔

https://p.dw.com/p/44Mie
Indien Kalkutta | Hochzeitszeremonie, Priesterinnen
تصویر: PURONATUN/Arshavi Banerjee

مودی کابینہ نے بدھ کے روز اپنی میٹنگ میں چائیلڈ میرج ایکٹ 2006ء ، اسپیشل میرج ایکٹ اور ہندو میرج ایکٹ 1955ء میں ترمیم کی منظوری دے دی۔ جس کے ساتھ ہی لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر برابر ہوجائے گی۔ فی الحال لڑکوں کے لیے شادی کی کم ا ز کم عمر 21 برس ہے۔ حکومت اس حوالے سے جلد ہی ایک بل پارلیمان میں پیش کرے گی۔

بھارت میں ایک طویل عرصے سے لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر بڑھانے کا مطالبہ ہورہا تھا۔ اس سلسلے میں ملک میں سماجی اور اقتصادی منصوبہ تیار کرنے والے ادارے نیتی آیوگ نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی تھی۔ جیا جیٹلی کی صدارت والی اس کمیٹی نے دسمبر 2020 میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی تھی۔ اس رپورٹ میں ماں بننے کی عمر، زچہ کی شرح اموات، تغذیاتی معیار کو بہتر بنانے سمیت دیگر کئی امور پر بھی سفارشات شامل ہیں۔

 وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ برس یوم آزادی کے موقع پر لال قلعے کی فصیل سے اپنی روایتی تقریر میں بھی لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر میں اضافہ کرنے کا ذکر کیا تھا۔

Karva Chauth Fest in Indien Flash-Galerie
لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر 18برس ہونے کے باوجود بچہ شادی عام ہےتصویر: AP

عمر میں اضافہ کا مقصد خواتین کو با اختیار بنانا

جیا جیٹلی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے لڑکیوں کی شادی کی عمر میں اضافے کی جو سفارش کی ہے اس کا تعلق آبادی پر کنٹرول سے قطعی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ''حال ہی میں جاری کردہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے سے پتا چلتا ہے کہ بھارت میں مجموعی فرٹیلیٹی ریٹ مسلسل گر رہا ہے اور آبادی کنٹرول میں ہے۔ اس سفارش کے پس پردہ اصل مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔‘‘

سماجی کارکن جیا جیٹلی کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے،'' بڑے پیمانے پر ماہرین اور نوجوانوں اور بالخصوص خواتین کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد اپنی سفارشات پیش کی تھیں کیونکہ اس فیصلے کا براہ راست ان سے ہی تعلق ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا، '' 16یونیورسٹیوں سے فیڈ بیک حاصل کیا گیا اور نوجوانوں سے رابطے کے لیے 15 این جی اوز کی خدمات حاصل کی گئیں۔ راجستھان، جہاں کم سن بچوں کی شادی کا رواج عام ہے، کے بیشتر اضلاع کے علاوہ ملک کے متعدد شہری اور دیہی علاقوں کے لوگوں سے ان کی رائے معلوم کی گئی۔‘‘

Indien Massenhochzeit, Warten
یونیسیف کے مطابق بھارت میں ہر سال 15لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کی 18برس سے کم عمر میں شادی ہوجاتی ہےتصویر: Saikat Paul/Pacific Press/dpa/picture-alliance

سیکس ایجوکیشن پربھی زور

جیاجیٹلی کی صدارت والی کمیٹی نے اسکول کے نصابِ تعلیم میں سیکس ایجوکیشن کو باضابطہ شامل کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے خواتین کے لیے ووکیشنل کورسیز، ہنرمندی اور بزنس کی تربیت دینے اور ذریعہ معاش کو بہتر بنانے کے طریقے بتانے کی بھی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے لڑکیوں کی شادی کی کم ازکم عمر کے قانون کو عملی طورپر نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔''اگر لڑکیاں مالی لحاظ سے خود کفیل ہوں گی تو ان کے سرپرست کم عمر میں شادی کرنے سے پہلے دو بار سوچیں گے۔‘‘

بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمان میں اپنی بجٹ تقریر کے دوران کہا تھا کہ چونکہ بھارت اب تیزی سے ترقی کررہا ہے اور خواتین کے لیے بھی اعلٰی تعلیم اور کیریئر کے نئے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں اس لیے لڑکیوں کے ماں بننے کی عمر کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

 

فیصلے کی نکتہ چینی بھی

جیا جیٹلی نے تسلیم کیا کہ بعض حلقوں نے لڑکیوں کی شادی کی عمر میں اضافہ کی مخالفت کی ہے۔

خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نیز فیملی پلاننگ کے ماہرین بھی لڑکیوں کی شادی کی عمر میں اضافہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے قانونی سازی کے بعد آبادی کا ایک بڑا طبقہ غیر قانونی شادی کا راستہ اختیار کرلے گا۔

Kinderehe in Indien
راجستھان میں کم سن بچوں کی شادی کا رواج عام ہےتصویر: AP

ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر 18برس ہونے کے باوجود بچہ شادی عام ہے اورقانون موجود ہونے کے باوجود انتہائی کم عمری میں شادیوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ قانون سازی کی بجائے لڑکیوں کے لیے تعلیم اور روزگارکے مواقع میں اضافہ کرکے اس رجحان کو کم کیا جاسکتا ہے۔

یونیسیف کے مطابق بھارت میں ہر سال 15لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کی 18برس سے کم عمر میں شادی ہوجاتی ہے۔

خواتین اوربچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 21 برس کا قانون منظور ہوجاتا ہے تو دیگر قوانین کی طرح اس کے بھی غلط استعمال کا خدشہ ہے اور اس کا سب سے زیادہ منفی اثر پسماندہ طبقات اور قبائلیوں پر پڑے گا۔

جاوید اختر/ ک م

کم عمری ميں شادی سے بچ کر خواب نگر تک کا سفر

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں