1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: سرکاری شیلٹر میں کئی کمسن لڑکیوں کا جنسی استحصال

28 جولائی 2018

بھارتی ریاست بہار کے ایک حکومتی شیلٹر ہاؤس میں کئی کمسن اور ٹین ایجر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیاتی کی گئی ہے۔ اس خبر کے بعد ریاستی حکومت نے تفتیشی عمل شروع کر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/32EPK
Indien Pakistan Symbolbild Vergewaltigung
تصویر: picture alliance/AA/H. Chowdhury

بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے شہر مظفرپور میں قائم محفوظ شیلٹر ہاؤس میں کم از کم چونتیس ایسی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے، جن کی عمریں سات برس سے اٹھارہ برس کے درمیان ہیں۔ یہ شیلٹر سرکاری نگرانی میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں کو ایک اور مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے جنسی استحصال کی شکار ہونے والی تقریباً تین درجن کمسن اور ٹین ایجر لڑکیوں کی ابتدائی میڈکل رپورٹ حاصل کر لی ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اور نشاندہی پر کم از کم دس مردوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان گرفتار ہونے والوں میں ایک غیرسرکاری تنظیم کا سربراہ بھی ہے، جو اس شیلٹر کے لیے امدادی سامان اور رقوم فراہم کرتا تھا۔

ریاستی پولیس کی سینیئر خاتون افسر ہرپریت کور نے مقامی معروف غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ کور کے مطابق تفتیشی عمل جاری ہے اور گرفتاریوں کا دائرہ وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ خاتون پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ لڑکیوں کے مقام کو تبدیل کر کے اُن کی بہتر انداز میں نگرانی کی جا رہی ہے۔

Indien Mother Teresa Wohltätigkeitshaus
بھارت میں بے گھر ہو جانے والی کمسن لڑکیوں، ٹین ایجرز اور جوان خواتین کے لیے کئی شیلٹر ہاؤسز سرکاری اور نجی سرپرستی میں قائم ہیں تصویر: Reuters/Stringer

ہرپریت کورنے بتایا کہ اس شیلٹر میں مقیم چوالیس لڑکیوں کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا تھا اور پہلے انتیس کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن ہسپتال کی اگلی رپورٹ میں یہ تعداد چونتیس کر دی گئی ہے۔ اس شیلٹر میں ہونے والے اس گھناؤنے افعال کا پردہ ٹاٹا انسٹیٹیوٹ برائے سوشل سائنسز کے ایک سروے میں اٹھایا گیا تھا۔

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ممبئی میں قائم ٹاٹا انسٹیٹیوٹ برائے سوشل سائنسز نے بھارت کے طول و عرض میں قائم خواتین کے شیلٹرز میں دی گئی سہولیات پر ایک سروے مکمل کیا ہے۔ اس سروے کی مرتب کردہ رپورٹ کے تحت پولیس نے کارروائی کی۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مظفرپور کی ایک لڑکی نے سروے ٹیم کو بتایا کہ اُس کی ایک دوست کو ہلاک کر کے شیلٹر ہی کے ایک مقام پر دفن کیا گیا تھا۔

اس بیان کی تصدیق خاتون پولیس افسر ہرپریت کور نے بھی کی ہے۔ اُنہیں بھی ایک متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ایک لڑکی کو جنسی زیادتی کے حوالے سے آواز بلند کرنے پر مارپیٹ کے بعد زندہ ہی زمین میں دفن کر دیا گیا تھا۔ کور کے مطابق ابھی تک کی چھان بین اور زمین کی کھدائی سے جسمانی باقیات دستیاب نہیں ہوئی ہیں۔

مظفر پور کی پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیشی عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے کیونکہ ریاستی حکومت نے وفاقی تفتیشی ادارے سے تعاون کی درخواست کی ہے۔