1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت اور پاکستان میں اب تعلیمی ڈگریوں کا تنازع

جاوید اختر، نئی دہلی
26 اپریل 2022

اسلام آباد نے بھارتی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان کے سفر سے روکنے کی مذمت کی ہے۔ بھارت نے کہا تھا کہ پاکستانی ڈگریاں نہ تو تسلیم کی جائیں گی اور نہ ہی ان کی بنیاد پر ملازمتیں مل سکیں گی۔

https://p.dw.com/p/4ARBx
Indien Jammu | Krankenhaus | Coronavirus
تصویر: Channi Anand/AP Photo/picture alliance

میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے دفترخارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ،''یہ افسوسناک ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان دشمنی کے لاعلاج جنون کی وجہ سے طلبہ کو اپنی پسند کی معیاری تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کے لیے بے دریغ مجبور کررہی ہے۔‘‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے سرکاری ادارے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(یو جی سی) اورآل انڈیا کونسل برائے تکنیکی تعلیم (اے آئی سی ٹی ای) کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن کے حوالے سے بھارت سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور''پاکستان بھارت کے اس کھلم کھُلا جانبداری اور ناقابل بیان اقدام کے جواب میں مناسب اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘‘

کیا ہے معاملہ؟

بھارت میں اعلیٰ تعلیم اور تکنیکی تعلیم کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے یو جی سی او راے آئی سی ٹی ای نے جمعے کے روز ایک نوٹیفیکیشن جاری کرکے بھارتی طلبہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کا سفر نہ کریں۔

نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے،''کوئی بھی بھارتی شہری یا بیرون ملک مقیم بھارتی شہری کسی بھی پاکستانی تعلیمی ادارے میں یا ڈگری پروگرام میں داخلہ لینا چاہتا ہے، وہ بھارت میں ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کے لیے اہل نہیں ہوگا۔‘‘

نوٹیفیکیشن میں تاہم کہا گیا ہے کہ بھارت ہجرت کرنے والے یا ان کے بچوں نے اگر پاکستان میں تعلیم حاصل کی ہو اور اگر انہیں بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے شہریت اور سکیورٹی کے حوالے سے منظوری دی گئی ہو تو وہ بھارت میں روزگار حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

 Pakistan I Erste Schule für Transgender-Frauen
تصویر: Asim Tanveer/AP

'یہ نوٹیفیکیشن صریح جانبداری ہے'

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں اس نوٹیفیکیشن کو ''ظالمانہ آمریت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی ہے۔ 

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نوٹس کے مندرجات نے پاکستان کے خلاف بی جے پی اور آر ایس ایس کے اتحاد کی گہری نظریاتی دشمنی اور دائمی نفرت کو بے نقاب کیا ہے۔''یہ افسوسناک ہے کہ اپنے مشن 'ہندو راشٹرا‘ کے ایک حصے کے طور پر بھارتی حکومت نے ملک میں ہائپر نیشنل ازم کو ہوا دینے کے لیے ایسی حرکتیں کی ہیں۔‘‘

چین کے خلاف بھی بھارت کا فیصلہ

یوجی سی نے گزشتہ ماہ ایک ایڈوائزری جاری کرکے بھارتی طلبہ کوحصول تعلیم کے لیے چین جانے سے پہلے غور کرلینے کا مشورہ دیا تھا۔ کورونا وائرس کی وبا کے سبب نومبر2020 ء میں ہی بیجنگ نے بھارتی شہریوں کے چین آنے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

 یوجی سی نے اس کے باوجود بھارتی طلبہ کو متنبہ کیا ہے کہ ''پیشگی منظوری کے بغیر آن لائن موڈ کے ذریعہ کیے جانے والے ڈگری کورسز کو بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔‘‘

یوجی سی نے سن 2019 ء میں ایک ایڈوائزری جاری کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل نہ کرنے کے حوالے سے بھی بھارتی طلبہ کومشورہ دیا تھا۔

گوکہ پاکستان میں زیر تعلیم بھارتی طلبہ کی حتمی تعداد کے حوالے سے کوئی اعدادو شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم سن 2020 کی میڈیا رپوٹوں کے مطابق تقریباً 200 بھارتی طلبہ پاکستان میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید