1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بچے یا ریس کے گھوڑے؟

2 مئی 2023

زمانہ طالب علمی میں سالانہ امتحانات کا وہ وقت کون بھول سکتا ہے، جب دنیا ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ بھوک ختم ہو جاتی، نیند اڑ جاتی اور کچھ لمحوں کے لیے تو محسوس ہوتا کہ دل کی دھڑکن جیسے ٹھہر سی گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/4QnHb
DW Urdu Bloger Swera Khan
تصویر: Privat

جب زندگی اور ہستی کا مقصد صرف ایک نکتے پر مرکوز ہو جایا کرتا کہ امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر کیوں کر حاصل کیے جائیں؟ اور اگر اچھے نمبر نہ آئے تو؟ ایسے میں کبھی خودکشی کرنے کا خیال اور کبھی گھر سے بھاگ جانے کے منصوبے۔

امتحانی کار کردگی کے حوالے سے والدین، اساتذہ اور دوستوں کی طرف سے توقعات کا جو بوجھ ناتواں کاندھوں پر لاد دیا جاتا ہے وہ سوہان روح بن جاتا ہے۔ شاید اسی ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا نتیجہ ہوا کرتا تھا کہ کمرہ امتحان میں پہنچتے ہی قدم ڈگمگانے لگتے، نگران اساتذہ کی شکلیں خون خوار جلادوں کی سی دکھائی دینے لگتیں اور جب سوال نامے تقسیم ہونے لگتے، جسم میں ایک سنسناہٹ سی دوڑنے لگتی۔

اور چند واقعات مجھے اب بھی یاد ہیں، جب نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس دباؤ کے مارے ہوئے طلبا کمرہ امتحان میں بے ہوش بھی ہو گئے۔

اگر بچہ کسی نامور یا مہنگے ادارے میں پڑھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کارکردگی کے لیے دباؤ میں اسی تناسب سے اضافہ۔ کہ اب والدین اور اساتذہ کی توقعات کے ساتھ ساتھ اس تعلیمی ادارے کی ساکھ کو برقرار رکھنے کا بوجھ بھی انہی ننھی جانوں کو اٹھانا پڑے گا۔

میٹرک کے امتحانات سے پہلے سکول کا آخری دن اب بھی یاد ہے، جب میرے مشہور و معروف سکول نے اپنی مرضی کا نگران عملہ اور امتحانی مرکز منتخب کرنے کے لیے طلبا سے اضافی رقم کا مطالبہ کیا اور ایک پیریڈ امتحان میں نقل کے محفوظ طریقوں کا بھی تھا۔

نمبروں کی دوڑ میں ہم اندھا دھند بھاگتے، اخلاقیات اور اقدار کو پیروں تلے روندتے چلے جاتے ہیں۔

اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا جاتا ہے لیکن کچھ ایسی غیر یقینی کی فضا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ والدین بھی سب کچھ جاننے کے باوجود امتحانات کے دنوں میں اسی راہ پر چل نکلتے ہیں۔ ان کے لیے یہ یقین کر لینا ہی مشکل ہے کہ ہر بچہ اپنی ذہنی استعداد اور رجحان کے مطابق الگ شخصیت ہے۔

ہم فرض کر لیتے ہیں کہ فلاں کا بچہ اگر اتنے اچھے گریڈز لا سکتا ہے تو ہمارا بچہ اتنے گریڈز کیوں نہیں لے رہا۔ والدین اپنے بچے کی کار کردگی کو اس کی تربیت کی بجائے ایک معاشرتی تفاخر کی علامت بنانا چاہتے ہیں۔ امتحان میں بچے کے حاصل کردہ نمبر اس کی کار کردگی کی بجائے اس کے سر پرستوں کے غرور کا سرٹیفکیٹ بن جاتے ہیں۔

شاید ہمارے انہی رویوں کی وجہ سے تعلیم کے نام پر اب صرف بے مقصد رٹا باقی بچا ہے، جس کا مقصد نصاب پر دسترس کی بجائے صرف زیادہ سے زیادہ نمبروں کا حصول ہے اور ہمارے تعلیمی نظام میں موجودہ انحطاط اس کا منطقی نتیجہ۔

شاید اب وقت ہے کہ اساتذہ اور والدین کو بچے کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل نکالنا چاہیے تا کہ امتحانی دباؤ سے نکل کر بچے اچھے سے تیاری کر کے بہتر نتائج دے سکیں۔ جہاں امتحان کا مقصد بچے کی سمجھ بوجھ کی جانچ ہو نہ کہ محض یاد داشت کو پرکھنے کا ایک ذریعہ۔ 

ہماری توقعات کے بوجھ تلے دبے ہمارے بچے ریس کے گھوڑے نہیں جن کے مالکان ان پر داؤ لگا کر انہیں دوڑاتے ہیں اور ان کی کامیابی کے جھنڈے اٹھا کر اتراتے پھرتے ہیں۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔