1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بشار الاسد کی موجودگی میں شام میں امن ممکن نہیں، الحریری

15 فروری 2019

شامی اپوزیشن کے رہنما ناصر الحریری نے اپنے بیان میں یہ کہا ہے، ’’ہم امن چاہتے ہیں مگر یہ صدر بشار الاسدکی موجودگی میں نا ممکن ہے۔ ہمیں اس مسئلے کا مستقل حل چاہیے۔‘‘

https://p.dw.com/p/3DRmQ
Syrien Präsident Assad - Rede vor Diplomaten in Damaskus
تصویر: picture-alliance/AP Photo/Syrian Presidency

 شامی اپوزیشن کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ انہیں یقین ہےکہ شام میں دہشتگردی اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی، جب تک  صدر بشار الاسد حکومت میں ہیں۔ شامی اپوزیشن کے رہنما ناصر الحریری کے خیال میں مسئلے کو جڑ سے حل کرنا چاہیے تب ہی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے،’’صرف بیماری کی علامات جاننا ناکافی ہے۔ اس کا علاج بھی اتنا ہی ضروری ہے۔‘

ناصر الحریری نے مزید کہا کہ یہ تمام مسائل جبر، جرائم اور افراتفری اسد حکومت کا شاخسانہ ہے۔ یاد رہے کہ استنبول میں مقیم الحریری جلاوطن شامی باشندوں کے سربراہ ہیں۔ الحریری اور ان کے ساتھیوں کے ترکی کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور ان کا بھی کرد جنگجو تنظیم ’وائی پی جے‘ کے حوالے سے وہی موقف ہے، جو انقرہ حکومت کا ہے۔ انقرہ حکومت شمالی شام میں سرگرم وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے۔

Syrien Bürgerkrieg Aleppo Wandbild Assad
تصویر: Reuters/M. Hasano

 

بشارالاسدکے مخالفین شامی بحران کے حل کے لیے مستقل سیاسی حل چاہتے ہیں۔ الحریری کے مطابق، ’’بغیر کسی نتیجے  کے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف استعمال کی جانے والی رقم ضائع ہو جائے گی۔‘‘ 

’ٹرمپ نے اسد کو قتل کرنے کا کہا‘ سچ کیا اور جھوٹ کیا؟

الحریری نے مزید یہ کہا کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کسی اور جگہ ابھر آئے گی۔ بحیثیت حزب اختلاف رہنما الحریری انہیں شام کی ممکنہ آئینی کمیٹی سے بہت کم ہی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کا خیال میں  اس سے کوئی سیاسی حل نہیں نکلے گا۔

 روسی شہر سوچی میں حالیہ مذاکرات کے بعد اسد کے حامی روس اور ایران کے ساتھ ساتھ ترکی نے بھی اس کمیٹی کے قیام کی حمایت کی تھی۔ توقعات کے مطابق یہ کمیٹی  اقوام متحدہ کے ضوابط کے مطابق کام کرے گی۔ لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ 

حلب: معمول کی زندگی کی طرف لوٹتا ہوا

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید