1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بریگزٹ مذاکرات، ڈیل کے امکانات

16 اکتوبر 2019

برسلز میں برطانوی اور یورپی یونین کے مذاکرات کار یورپی رہنماؤں کی جمعرات سے شروع ہونے والی سمٹ سے قبل مختلف پیچیدہ معاملات کو حل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مشکل ترین سیاسی آزمائش کا سامنا ہوگا۔

https://p.dw.com/p/3ROgt
Belgium Europe Brexit  Michel Barnier
تصویر: picture-alliance/AP Photo/F. Seco

یورپی یونین سے برطانيہ کے انخلاء کے لیے جاری بریگزٹ مذاکرات کے دوران ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے مذاکرات کار منگل کی رات کو دیر تک بات چیت جاری رکھے ہوئے تھے۔ آج بدھ کے روز بات چيت ميں فریقین کو اس وقت آئرلینڈ کی پیچیدہ سرحدی صورت حال جیسے معاملات کا سامنا ہے۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اپنے ایک بیان میں کہا  کہ آج بدھ کی شب تک بریگزٹ معاہدے کے حوالے سے واضح صورتحال سامنے آنے کا امکان ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سات سے آٹھ گھنٹے میں ہر چیز واضح ہوجانی چاہیے۔

Gipfel der EU-Staats- und Regierungschefs | Donald Tusk
تصویر: picture-alliance/AP Photo/dpa/O. Matthys

قبل ازیں فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایو لیدریاں نے کہا تھا کہ بریگزٹ ڈیل کا طے پانا ممکن ہے لیکن ابھی تک اس معاملے پر بے یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ لیدریاں نے توقع ظاہر کی کہ مذاکرات میں جمود کی کیفیت کو ختم کرنا ممکن ہے۔

نو ڈیل بریگزٹ بڑا زلزلہ ہو گا، کار سازی کی یورپی صنعت کی تنبیہ

دوسری جانب یورپی یونین کے بریگزٹ کے لیے مقرر خصوصی مذاکرات کار مشیل بارنیئر نے برطانیہ کے ساتھ رواں ہفتے کے دوران بریگزٹ ڈیل طے پانے کو مناسب برطانوی حکومتی تجاویز سے جوڑا تھا۔ بارنیئر کے بقول، ابھی متعدد ایسے پیچیدہ معاملات کو حل کرنا باقی ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے دفتر کی جانب سے آج صبح بتایا گیا کہ ایک مثبت سیشن کے بعد مذاکرات دوبارہ بحال ہو رہے ہیں۔

London Boris Johnson und David Davis
تصویر: picture-alliance/empics/G. Fuller

بریگزٹ مذاکرات کی اس بے یقینی کی صورتحال میں اگر وزارتی سطح پر کوئی قانونی حل نکالا بھی جائے، تب بھی عین ممکن ہے کہ طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو سیاسی سطح پر شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو یورپی اتحاد کے مخالف سخت گیر قدامت پسند قانون سازوں کے علاوہ اپنے شمالی آئرلینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کے اتحادیوں کو بھی راضی کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔

جانسن کو نیا جھٹکا: پارلیمان کی معطلی غیر آئینی، سکاٹش عدالت

 واضح رہے یہ مذاکراتی عمل ایسے وقت میں جاری ہے جب یورپی یونین کے ستائیس رکن ممالک کی سمٹ کل جمعرات سے شروع ہونے والی ہے۔ ابھی تک برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑ دینے کی تاریخ اکتیس اکتوبر طے ہے۔

ع آ / ب ج (رچرڈ کونور)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں