1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برطانیہ والدین سے بچھڑ جانے والے مہاجر بچوں کو پناہ دے گا

شمشیر حیدر28 جنوری 2016

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ برطانیہ شام اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایسے مہاجر بچوں کو اپنے ہاں پناہ دے گا جو اپنے خاندانوں سے بچھڑ چکے ہیں۔

https://p.dw.com/p/1HlHz
UNICEF Foto des Jahres - von Georgi Licovski
تصویر: picture-alliance/dpa/G. Licovski

خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق اپنے خاندانوں سے بچھڑنے والے مہاجر بچوں کو برطانیہ میں پناہ دینے کے لیے برطانوی حکام اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

برطانیہ کے وزیر برائے امورِ تارکین وطن جیمز برُوکنشائر کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا، ’’شامی بحران اور مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور دیگر خطوں میں رونما ہونے والے واقعات کے باعث تارکین وطن بچوں کی ایک بڑی تعداد اپنے والدین سے بچھڑ چکی ہے۔‘‘ برُوکنشائر کا مزید کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں ایسے لاوارث مہاجر بچے انہی علاقوں میں اپنے دور پار کے رشتہ داروں کے پاس رہ رہے ہیں۔

برُوکنشائر کا کہنا تھا، ’’ہم نے یو این ایچ سی آر سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسے بچوں کی شناخت، انتخاب اور برطانیہ منتقلی میں ہماری مدد کریں جنہیں برطانیہ میں پناہ دینے سے ان کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔‘‘

Welttage der Migranten im Iran Papierboot
ڈیوڈ کیمرون کو شامی مہاجرین کے لیے مزید اقدامات کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا تھاتصویر: Imam Ali’s Popular Students Releif Society/sosapoverty.org

ہوم آفس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال یہ نہیں بتا سکتے کہ اس منصوبے کے تحت کتنے بچوں کو برطانیہ لایا جائے گا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے گزشتہ برس ستمبر کے مہینے اعلان کیا تھا کہ 2020ء تک بیس ہزار شامی تارکین وطن کو برطانیہ میں پناہ دی جائے گی۔ اس ضمن میں اب تک ایک ہزار شامی شہریوں کو برطانیہ میں پناہ دی جا چکی ہے۔ ان میں سے نصف تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔

تاہم برطانیہ یورپی یونین کی جانب سے تارکین وطن کی رکن ممالک میں تقسیم کے منصوبے میں شامل نہیں ہوا۔ لندن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے شامی باشندوں کو پناہ نہیں دے گا جو پہلے سے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ اس کے برعکس پانچ برسوں کے دوران بیس ہزار ایسے شامی باشندوں کو برطانیہ میں آباد کیا جائے گا جو ابھی تک اپنے علاقوں ہی میں موجود ہیں۔

تاہم برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق سماجی تنظیموں اور سیاست دانوں کے مطالبے کے بعد برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ یورپ میں موجود لاوارث شامی مہاجر بچوں کو بھی برطانیہ میں پناہ دی جائے گی۔

گزشتہ برس تین سالہ شامی بچے ایلان کرُدی کی ترکی کے ساحل پر مردہ حالت میں لی گئی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد سے ڈیوڈ کیمرون پر شامی بچوں کو برطانیہ میں پناہ دینے کے لیے دباؤ کا سامنا تھا۔

برطانوی حکومت نے جمعرات اٹھائیس جنوری کے روز یورپ آنے والے مہاجر بچوں کی مدد کے لیے دس ملین برطانوی پاؤنڈ فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید