1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایغور مسلمانوں کے ساتھ چینی سلوک پر تازہ امریکی کارروائی

15 ستمبر 2020

امریکا نے ایغور مسلمانوں کے ساتھ مبینہ غیرانسانی سلوک کے خلاف اپنے تازہ ترین اقدامات کے تحت سنکیانگ میں واقع چار کمپنیوں کے ذریعہ تیار کیے جانے والے اشیاء کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/3iTca
Symbolbild USA China Beziehungen
تصویر: imago images/Panthermedia/Kentoh

امریکا کا الزام ہے کہ سنکیانگ میں واقع یہ کمپنیاں اقلیتی ایغور مسلمانوں کو جبری مزدوری کے لیے مجبور کرکے ان سے اپنا سامان تیار کرواتی ہیں اس لیے ان لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی وجہ سے وہاں تیارہونے والی اشیاء مثلاً کپڑوں، کمپیوٹر کے پرزوں اور دیگر سامان کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ کسٹم اور سرحدی تحفظ (سی بی پی) نے شمال مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں واقع ان کمپنیوں کے ذریعہ تیارکیے جانے والے کپاس، کپڑے اور کمپیوٹر کے پرزوں کی درآمدات کو روک دینے کا حکم دیا ہے۔ 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں دس لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔  تاہم چین اس کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں شدت پسند نظریات کے حامل افراد کو اصلاح کے لیے رکھا گیا ہے۔

سی بی پی نے بالوں سے تیار کیے جانے والے مصنوعات کی درآمدات پر بھی روک لگادی ہے، جس کے بارے میں امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ ایغوروں سے جبری مزدوری کے ذریعہ تیار کرائے جاتے ہیں۔

 چین کا دعوی ہے کہ وہ ووکیشنل ٹریننگ پروگرام کے تحت حراست میں لیے گئے لوگوں کو ان کارخانوں میں بھیجتا ہے تاکہ وہ کام کے سلسلے میں عملی تربیت حاصل کرسکیں۔

امریکی داخلی سلامتی کے کارگزار نائب وزیر کین کوسینیلی نے تاہم چین کے اس دعوے کو مسترد کردیا۔  ان کا کہنا تھا” یہ ایک حراستی کیمپ ہے، ایک ایسی جگہ ہے جہاں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کا استحصال کیا جاتا ہے اور جہاں انتہائی تکلیف دہ حالات میں انہیں کام کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، جہاں نہ انہیں کوئی سہولت حاصل ہے اور نہ ہی آزادی۔ یہ موجودہ زمانے کی غلامی ہے۔“

خیال رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاملات اور کورونا وائرس کے سلسلے میں بیجنگ پر صدر ٹرمپ کے الزامات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کافی کشیدہ ہیں۔ 

ٹرمپ انتظامیہ پچھلے ایک برس کے دوران چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر روک لگانے کے آٹھ احکامات جاری کرچکی ہے۔  تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں ایسے مزیدا حکامات جانے کیے جانے کا امکان ہے۔

امریکا کی طرف سے پیر کے روز جاری کردہ تازہ ترین احکامات میں کہا گیا ہے ”بین الاقوامی برادری کو واضح پیغام ہے کہ ہم امریکا کی سپلائی چین میں جبراً مزدوری کرنے کے غیر قانونی، غیر انسانی اور استحصالی رویے کو برداشت نہیں کریں گے۔"

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ”ٹرمپ انتظامیہ یوں ہی خاموش کھڑی دیکھتی نہیں رہے گی اور ان غیر ملکی کمپنیوں کو اپنے یہاں آنے کی اجازت نہیں دے گی جو ستائے ہوئے مزدوروں سے جبراً کام کراتی ہیں اور ساتھ ہی ان امریکی کاروباریوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں جو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔"

ج ا/  ص ز  (اے پی، ڈی پی اے)

چین کے 70 برس پر ایک نظر

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں