1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایرانی حکام خواتین کے نقاب پر مصر کیوں؟

23 دسمبر 2020

ایران میں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر نقاب پہنیں۔ اشتہارات میں بھی خواتین اسی طرح نظر آتی ہیں۔ تاہم ایک حالیہ ویڈیو میں ایک خاتون بغیرحجاب دکھائی دی، تو حکام نے ویڈیو پروڈیوسرز کو ہی سزا دی دے دی۔

https://p.dw.com/p/3nABh
Iran l Trennung - Scheidung, Symbolbild l Frauenrecht
تصویر: Imago/ZUMA Press

ایران میں خواتین کے نقاب کا معاملہ ایک طویل عرصے سے کسی نہ کسی صورت میں زیربحث رہا ہے۔ کئی مرتبہ تو کچھ خواتین نے انسٹاگرام پر جان بوجھ کر نقاب کے بغیر تصاویر شائع کر کے ایک عوامی بحث تک پیدا کر دی۔

ابھی حال ہی میں ایک ویڈیو کلپ میں ایک خاتون بغیر روایتی لباس کے نظر آئی تو حکام نے ویڈیو پروڈیوسرز کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سوال یہ ہے کہ ایران میں خواتین کے نقاب کا معاملہ اتنا حساس کیوں ہے؟

ایران، حجاب اتار پھینکنا مزاحمت کا نشان؟

ایرانی خواتین کے لیے ایک امید

شہرام کرامی، مغربی ایرانی شہر کیرمان شاہ میں سرکاری وکیل ہیں۔ کرامی کے مطابق کسی فیشن سے جڑے اشتہارت میں کسی خاتون کا ننگے سر ہونا ایک 'غیراخلاقی‘ بات ہے۔ انہوں نے ابھی حال ہی میں ایک ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد اس کے پروڈیوسرز اور تقسیم کاروں کے خلاف سکیورٹی اور عدالتی حکام کو متحرک کیا۔ اب تک اس ویڈیو سے جڑے چار افراد کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔

ان گرفتاریوں سے خواتین کے لباس کے حوالے سے سخت اور قدامت پسند ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق حکومتی سنجیدگی بھی واضح ہوتی ہے۔ حکومتی نقطہء نگاہ کے مطابق ایرانی 'اسلامی معاشرتی‘ ضوابط پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ایرانی سیاسی مبصرین کے مطابق سن 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد خواتین کا ایک مخصوص کردار 'ایرانی نظریاتی معاشرے میں ایک ستون‘ سمجھا جاتا ہے۔

انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی نے خواتین کے معتدل لباس پر زور دیا تھا۔ فروری 1979 میں ایک انٹرویو میں خمینی نے کہا تھا، ''ان خواتین نے جو میک آپ کرتی ہیں اور جن کے بال اور جسم نظر آتے ہیں، انہوں نے شاہ کے خلاف جدوجہد میں حصہ نہیں لیا تھا۔‘‘

خمینی کا مزید کہنا تھا، ''ایسی خواتین نے کوئی ٹھیک کام نہیں کیا۔ انہیں خبر نہیں کہ یہ کارآمد کیسے ہو سکتی ہیں، نہ معاشرے کے لیے اور نہ سیاسی اعتبار سے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو ظاہر کر کے لوگوں کی توجہ خراب کرتی ہیں اور انہیں مشتعل کرتی ہیں۔‘‘

اس کے فوری بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ ایران کے انقلابی سخت قدامات پسند معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خاندانی امور سے متعلق ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی کی سکیولر عدالتوں کی ہدایات کو بھی ختم کر دیا تھا اور خاندانی امور کو 'روحانی رہنماؤں‘ کے دائرہ اختیار میں دے دیا۔

خواتین کے حقوق اور ایرانی انقلاب

بہت سی خواتین خمینی کے اس بیان کو مسترد کرتی ہیں۔ معروف ایرانی محقق برائے سیاسیات نگار متحدہ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں ان دعووں کو رد کیا۔ اپنی تازہ کتاب 'وِسپر ٹیپس‘، جو امریکی صحافی کیٹ میلیٹ کے ایرانی معاشرے کے مشاہدے پر مبنی ہے، میں خواتین سے متعلق تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب میں نگار متحدہ بتاتی ہیں کہ ایرانی خواتین وکلاء، طالبات اور دیگر خواتین ورکرز اپنے حقوق سے متعلق کیا کہتی ہیں۔ متحدہ نے اپنی اس کتاب میں ایران میں خواتین کے حقوق کی تحریکوں کا یہ نعرہ بڑے واضح انداز سے لکھا ہے، 'انقلاب ایک قدم پیچھے جانے کا نام نہیں‘۔

خمینی اور ان کے حامی تاہم خواتین کے حقوق کو غیراہم سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں ایرانی خواتین مغرب کی لبرل اور معاشرتی دھارے میں ضم خواتین کا الٹ ہیں۔ انقلابی نہ صرف ایران کو امریکی سیاسی اور اقتصادی اثر سے نکالنا چاہتے تھے، بلکہ وہ وہاں 'علاقائی اسلامی ثقافت‘ کی تخلیق چاہتے تھے۔

ایران میں خواتین کا نقاب مغربی طرز زندگی کے رد کے ایک استعارے کی طرح ہے۔ امریکی ماہر سیاسیات حمیدہ سدغنی ایرانی خواتین اور سیاست سے متعلق سن 2007 کی رپورٹ میں لکھتی ہیں، '' ایران میں اسلامی انقلاب خواتین کی جنس پر لڑائی سے جڑا سیکچوئل کاؤنٹر ریولوشن ہے۔‘‘

سدغنی کے مطابق ایرانی معاشرے میں خواتین کے نقاب کو مغرب مخالف رویے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سن 1979 میں انقلاب کے وقت 'نقاب پہنو ورنہ تمہارے سر پر مکا ماروں گا‘‘ اور 'بے نقاب مردہ باد‘ جیسے نعرے اسی رویے کے غماز ہیں۔

ایرانی خواتین کے میوزک بینڈ کی شاندار پرفارمنس

جسم پر سیاست

خمینی نے خواتین کو برقع پہننے کا مشورہ 1979 میں دینا شروع کیا اور پھر 1983 میں ایرانی پارلیمان نے قانون بھی منظور کر دیا جس کے مطابق عوامی سطح پر نقاب نہ کرنے والی خواتین کو 74 کوڑے مارے جائیں یا انہیں دو ماہ تک جیل بھیج دیا جائے، جیسی سزائیں رکھی گئیں۔ لازمی نقاب ایران کے 'انقلابی اسلامی سماج‘ میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح تھا اور اس پر عمل نہ کرنے والی خواتین کو 'مغربی بیسوائیں‘ تک کہا جاتا تھا۔

تاہم اب ایران میں ایسے مردوں اور خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو ایرانی مذہبی قیادت کے ان نظریات کو رد کرتے ہیں۔ متحدہ کے مطابق اب خواتین جان بوجھ کر ان ضوابط کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، نقاب نہیں کرتیں۔ ’’وہ اپنی جسم پر اپنے حق کے دوبارہ حصول کی کوشش میں ہے۔‘‘