1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انتخابی دھاندلی، بیلاروس کے صدر لوکاشینکو پر پابندی

1 ستمبر 2020

یورپی یونین میں شامل تین بالٹک ممالک لیتھوینیا، لیٹویا اور اسٹونیا نے پڑوسی ملک بیلاروس کے صدر لوکا شینکو کے خلاف سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

https://p.dw.com/p/3hqPW
Weißrussland | Alexander Lukashenko besucht Militätübungsplatz nahe Grodno
تصویر: Reuters/BeITA

یہ پابندیاں صدر الیکسانڈر لوکاشینکو کی طرف سے نو اگست کے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور اس کے بعد عوامی مظاہرے کچلنے پر لگائی گئی ہے۔ پابندیوں کا اطلاق ان کے دیگر قریبی 29 اعلٰی افسران پر بھی ہوگا۔

یورپی یونین کے اندر بیلاروس کے پڑوسی ملک لیتھوینیا، لیٹویا اور اسٹونیا صدر لوکاشینکو کے مبینہ 'آمرانہ‘ طرز حکمرانی پر سب سے زیادہ تنقید کرتے رہے ہیں۔

یورپ کی آخری آمریت

بیلاروس کو یورپ کی آخری آمریت کہا جاتا ہے۔ صدر الیکسانڈر لوکاشینکو سن 1994 سے اس سابق سویت ریاست کے حاکم رہے ہیں۔ ان 26 برسوں میں صدر لوکاشینکو چھ بار انتخابات میں اپنے مخالفین کا تقریباﹰ مکمل صفایا کرتے ہوئے کامیاب ہوتے آئے ہیں۔

اگست کے انتخابات میں بھی سرکاری نتائج کے مطابق انہیں 80.1 فیصد ووٹ ملے جبکہ ان کی مدمقابل خاتون امیدوار سویٹلانا ٹیخانوسکایا کے حق میں صرف 10.12 فیصد ووٹ آئے۔ مبصرین کے مطابق ماضی کی طرح اس بار بھی کئی مقامات پر دھاندلی کا سہارا لیا گیا۔

’اولاد سے بڑھ کر کچھ نہیں، اس لیے ملک سے نکلنا پڑا‘

الیکشن یا سلیکشن؟

یورپی یونین کے مطابق بیلاروس کے یہ انتخابات آزادنہ اور منصفانہ نہیں تھے۔ برطانیہ ان انتخابی نتائج کو مسترد کر چکا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ کھل کر حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرے۔

Belarus Protest Demonstration
تصویر: picture-alliance/dpa/V. Fedosenko

جرمنی کے وزیر خزانہ اولاف شُلز نے صدر لوکاشینکو کو ایک 'آمر‘ قرار دیا، جو ان کے مطابق لوگوں کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی صدر لوکاشینکو کے قریبی ساتھیوں اور سینئر حکام پر پابندیاں لگانے کے حق میں ہے۔

’آزادی مارچ‘ میں ایک لاکھ سے زائد لوگ شریک، صدر کا ’آمرانہ‘ اقتدار خطرے میں

بیرونی مداخلت کا الزام

موجودہ بحران کو صدر لوکاشینکو کے لمبے دور حکمرانی کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔ ایسے میں ان کا سب سے بڑا سہارا روایتی اتحادی ملک روس کے صدر ولادیمیر پوٹن ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان متعدد بار مشاورت بھی ہوئی ہے۔

Russland Sotschi Alexander Lukaschenko und Waldimir Putin
تصویر: Reuters/S. Chirikov

صدر لوکاشینکو کا اپنے مغربی ہمسایہ ممالک پر الزام ہے کہ وہ حکومت مخالف تحریک کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

ماسکو نے صدر لوکاشینکو کے اس موقف کی تائید کی ہے اور خبردار کیا کہ اگر مغربی ممالک مداخلت سے باز نہ آئے تو روس بیلاروس سمیت چھ سابق سویت ملکوں کے فوجی اتحاد کو حرکت میں لا سکتا ہے۔

یورپی یونین کا دباؤ بڑھانے پر غور

یورپی یونین نے صدر لوکاشینکو کے خلاف انسانی حقوق کی شکایت پر کئی سال پہلے بھی پابندیاں عائد کی تھیں لیکن پھر 2016 میں ان میں نرمی کر دی گئی تھی۔

اگست میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیئر لائن نے عندیہ دیا کہ یورپی یونین نے بیلاروس حکومت کے لیے جو رقم مختص کی تھی، وہ اب سول سوسائٹی، حکومتی کارروائیوں کی وجہ سے متاثرین اور کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے جانے والے پروگراموں کو د ی جائے گی۔

 ش ج / ا ب ا (اے ایف پی، ڈی پی اے)