1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکا: پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری، 40 شہروں میں کرفیو

1 جون 2020

امریکا میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ چھٹے دن بھی جاری رہا،حالات پر قابو پانے کے لیے ملک کے درجنوں شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/3d6Ec
USA New York | Proteste nach dem Tod von George Floyd in Minneapolis durch Polizeigewalt
تصویر: picture-alliance/newscom/C. Sipkin

امریکا میں کرفیو کے باوجود پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج کے لیے بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جس کی وجہ سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ نیو یارک، شکاگو، فلیڈیلفیا اور لاس اینجلس جیسے بڑے شہروں میں ہجوم پر قابو پانے والے خصوصی پولیس دستوں کی مظاہرین کو منشتر کرنے کی کوششوں کے دوران جھڑپوں کی خبریں ہیں۔ کئی شہروں میں پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے اور دکانوں کے لوٹنے کے بھی واقعات پیش آئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالات پر قابو پانے اور مقامی پولیس کی مدد کے لیے واشنگٹن سمیت  15 ریاستوں میں تقریبا ًپانچ ہزار نیشنل گارڈز کو تعینات کیا گیا ہے۔ دن کے دوران تمام احتجاجی مظاہرے کم و بیش پر امن تھے تاہم شام کو بعض مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے جس کی وجہ سے حکام نے کرفیو نافذ کر نے کا فیصلہ کیا۔

پولیس کے زیادتی کے خلاف غم و غصے کی تازہ لہر کا تعلق جارج فلوئیڈ نامی سیاہ فام شخص کی دوران حراست ہلاکت سے ہے۔ 46 سالہ فلوئیڈ کو ریاست مِنیسوٹا کے مرکزی شہر منی ایپلس میں چار سفید فام پولیس والوں نے حراست میں لیا تھا۔ اس سے متعلق سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ سڑک پر پیٹ کے بل پڑے ہوئے ہیں اور ایک پولیس اہلکار اپنے گھٹنے سے اس کی گردن پر پوری طاقت سے دباوڈال رہا ہے۔

USA Proteste gegen Polizeigewalt / Tod von George Floyd
تصویر: Reuters/L. Bryant

نو منٹ کے اس ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ فلوئیڈ کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں اور وہ پولیس سے التجا کررہے ہیں ''پلیز، مجھے سانس لینے میں پریشانی ہورہی ہے۔ مجھے جان سے نہ مارنا۔'' لیکن پولیس کی کارروائی کے چند منٹوں کے اندر جارج کا وہیں سڑک پر دم نکل جاتا ہے۔

شہر منی ایپلس میں اب بھی حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔ جس پولیس افسر کے گھٹنے کے نیچے دب کر جارج کی ہلاکت ہوئی تھی اس کے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے کے وقت وہاں موجود دیگر تین پولیس اہلکاروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

 اس دوران شہر کی ایک شاہراہ پر ایک ٹرک ڈرائیور نے ہزاروں مظاہرین کے ایک ہجوم پر ٹرک چڑھانے کی کوشش کی جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔  حالانکہ اس سے پہلے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا،مظاہرین نے ڈرائیور پر قابو پالیا، تاہم سکیورٹی حکام نے اس واقعے کو بہت پریشان کن بتایا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسے کئی ویڈیوز وائرل ہورہے ہیں جس میں پولیس حکام کو مظاہرین کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی کیسز میں مظاہرین کو سڑک پر دھکیلتے، گھسیٹتے اور ان پر ربر کی گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ احتجاجی مظاہرین کے ساتھ پولیس کے اس سخت رویے پر ہر جانب سے شدید نکتہ چینی ہورہی ہے۔  

 

USA Proteste gegen Polizeigewalt / Tod von George Floyd
تصویر: picture-alliance/ZumaPress/M. Le Ble

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان پر تشدد مظاہروں کا الزام بایاں محاذ سے تعلق رکھنے والی لابی پر عائد کرتے ہیں جبکہ دوسرے حلقے اس کی ذمہ داری دائیں بازو کے سخت گیر عناصر پر ڈالتے ہیں۔ اتوار کو ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں ریاست مِنیسوٹا کے ڈیموکریٹک گورنر اور منی ایپلس کے میئر پر ان حالات کے لیے تنقید کی اور مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کرنے کو کہا۔

لیکن امریکی ماہرین جو اس طرح کے تشدد پر تحقیق کرتے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ تشدد کے ذمہ دار دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر ہیں اور ایسے ہی گروپوں نے اسے ہوا دی ہے۔ بعض ریاستی حکام نے بھی تشدد کے لیے سخت گیر نظریات کے حامل افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

مظاہرین نے اتوار کو دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے ایک بار پھر شدید احتجاج کیا جہاں آگ زنی کے بعض واقعات پیش آنے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کے شیل داغے۔فلوئیڈمعاملے کے خلاف وائٹ ہاؤس کے باہر یہ تیسرا مظاہرہ تھا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس پر تشدد مظاہرے کے سبب خفیہ سروس کے حکام صدر ٹرمپ کو محفوظ بنکر میں لے گئے۔

اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایسے خفیہ بنکر کا آخری بار استعمال سن 2001 میں اس وقت کیا گیا تھا جب نائن الیون یعنی ٹوین ٹاور پر حملہ ہوا تھا۔ اس وقت نائب صدر ڈک چینی اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو بنکر میں لے جایا گیا تھا۔

امریکا میں پولیس کی زیادتیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا دائر وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اور لندن و جرمنی میں بھی اس کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیاہے۔

ص ز/ ج ا  (روئٹرز، اے پی، ڈی پی اے)   

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں