1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’الجزئر، مراکش اور تیونس محفوظ ممالک‘، جرمن ایوان زیریں

عاطف بلوچ13 مئی 2016

سخت تنقید کے باوجود جرمن ایوان زیریں نے الجزائر، مراکش اور تیونس کو ’محفوظ ممالک کا درجہ‘ دے دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو جرمنی سے واپس ان کے ممالک روانہ کرنے کا سلسلہ تیز بنانا ہے۔

https://p.dw.com/p/1InI7
Deutschland Flüchtlingsunterkunft in Berlin
تصویر: Getty Images/S. Gallup

اس مجوزہ منصوبے کی حتمی منظوری کے بعد اس اقدام کا مطلب نہ صرف یہ ہو گا کہ ان ممالک سے جرمنی مہاجرت کرنے والوں کو پناہ دیے جانے کے امکانات کم ہو جائیں گے بلکہ ان کی ملک بدری کا سلسلہ بھی تیز ہو سکے گا۔

جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں میں 422 ممبران نے ان تینوں شمالی افریقی ممالک کو محفوظ ممالک کا درجہ دینے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس سلسلے میں تیرہ مارچ بروز جمعہ ہونے والی ووٹنگ میں ایک سو چالیس ممبران نے اس تحریک کے خلاف ووٹ دیا جبکہ تین غیر حاضر رہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اپوزیشن کی گرین پارٹی اس حکومتی منصوبے کے خلاف تھی۔

اب جرمن حکومت الجزائر، تیونس اور مراکش سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی ملک بدری کا سلسلہ تیز کر سکے گی کیونکہ قانونی طور پر یہ طے پا گیا ہے کہ یہ ممالک محفوظ ہیں۔ تاہم اس حوالے سے حتمی منظوری کے لیے جرمن ایوان بالا سے منظوری ملنا ابھی باقی ہے۔ جرمن قوانین کے مطابق محفوظ ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو عمومی طور پر جرمنی میں پناہ کے لیے درخواست جمع کرانے کا حق نہیں ہے۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزئر نے اس بارے میں اے ایف پی کو دیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا، ’’محفوظ ممالک قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ ہماری رائے میں ان ممالک میں عمومی سیاسی صورت حال اور قانون کی بالادستی سے متعلق حالات سازگار ہیں اور وہاں سیاسی انتقام نہیں لیا جاتا اور نہ ہی غیر انسانی سزائیں دی جاتی ہیں۔ مراکش، الجزائر اور تیونس ان معیارات پر پورا اترتے ہیں۔‘‘

دوسری طرف گرین پارٹی کے خارجہ امور کے ماہر ژُرگن ٹریٹین نے جمعے کو ’زاربروکر سائٹنگ‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ان ممالک کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح جرمنی کی متعدد سماجی تنظیموں نے اس مجوزہ منصوبے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح انفرادی سطح پر پناہ دیے جانے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

Deutschland Flüchtlinge in Berlin
گزشتہ برس صرف جرمنی آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد ایک ملین سے زائد رہی تھی، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شام اور افغانستان سے تھاتصویر: Reuters/F. Bensch

اس تنقید کے باوجود جرمن وزیر داخلہ نے اس مجوزہ منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تینوں ممالک کو محفوظ قرار دینا درست فیصلہ ہے۔ ڈے میزیئر کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ان ممالک سے تعلق رکھنے والے صرف 0.7 فیصد افراد کی پناہ کی درخواستیں منظور کی گئی تھیں۔

سن 2015 میں ان تینوں ممالک سے مجموعی طور پر چھبیس ہزار افراد نے جرمنی میں پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں، جن میں سے دو فیصد کی درخواستوں پر مثبت پیشرفت ہو سکی تھی۔ گزشتہ برس صرف جرمنی آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد ایک ملین سے زائد رہی تھی، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شام اور افغانستان سے تھا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں