1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

121011 Afghanistan Seidenstraße

12 اکتوبر 2011

ہندوستان، چین اور یورپ صدیوں تک شاہراہ ریشم کے راستے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے رہے ہیں۔ اب افغانستان میں تعمیر نو کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ، جرمنی اور افغانستان ایک ’نئی شاہراہِ ریشم‘ کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/12qjX
تصویر: picture-alliance / dpa

افغانستان میں اقتصادی ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے اس ’نئی شاہراہ ریشم‘ کا خیال امریکی مؤرخ اور وسطی ایشیائی امور کے ماہر پروفیسر فریڈرک سٹار نے پیش کیا ہے، جو واشنگٹن کی مشہورِ زمانہ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے وسطی ایشیا اور قفقاز سے وابستہ ہیں۔ اُنہوں نے ایک نقشے پر قدیم شاہراہِ ریشم کے رُوٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا:’’یہ تجارتی راستے دو ہزار سال تک استعمال کیے جاتے رہے، یہاں تک کہ سولہویں صدی میں چند ایک تنگ نظر حکمرانوں نے محصولات اکٹھے کرنے کے لیے اس راستے کو بند کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ ہوشیار پرتگیزیوں اور ہسپانویوں نے بھارت اور چین تک رسائی کے لیے بحری راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘

’’یہ تجارتی راستے دو ہزار سال تک استعمال کیے جاتے رہے، یہاں تک کہ سولہویں صدی میں چند ایک تنگ نظر حکمرانوں نے محصولات اکٹھے کرنے کے لیے اس راستے کو بند کر دیا‘‘
’’یہ تجارتی راستے دو ہزار سال تک استعمال کیے جاتے رہے، یہاں تک کہ سولہویں صدی میں چند ایک تنگ نظر حکمرانوں نے محصولات اکٹھے کرنے کے لیے اس راستے کو بند کر دیا‘‘تصویر: J. Sorges

بیسوی صدی میں سابق سوویت یونین نے افغانستان کی اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ملنے والی سرحدیں بند کر دیں، جنہیں طالبان نے بھی برسر اقتدار آنے کے بعد بند ہی رکھا۔ اس حوالے سے سٹار بتاتےہیں:’’جس واقعے کی وجہ سے نقل و حمل کے یہ راستے پھر سے کھلے ہیں، وہ تھا، 2001ء میں امریکیوں کے ہاتھوں طالبان حکومت کا خاتمہ۔ یہ نائن الیون کا بلا ارادہ سامنے آنے والا لیکن شاید اہم ترین نتیجہ تھا۔ اس سے یورپ اور ہندوستان کے درمیان بین البر اعظمی تجارتی راستے پھر سے کھل گئے۔‘‘

فریڈرک سٹار نے جدید شاہراہ ریشم کے بارے میں اپنی پہلی کتاب چار سال پہلے شائع کی تھی اور تب سے وہ اس تصور کی وکالت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اُنہوں نے حساب لگایا ہے کہ چینی شہر لیان ژُو گانگ سے براستہ وسطی ایشیا ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم تک کا زمینی سفر محض تقریباً گیارہ دن کا بنتا ہے۔ آج کل ان شہروں کے درمیان تجارت پر بیس سے لے کر چالیس دن تک کا وقت لگ جاتا ہے۔ نئی شاہراہ ریشم کے ذریعے نہ صرف اخراجات میں ایک تہائی تک کی بچت ہو گی بلکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت میں بھی 80 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔

شاہراہ ریشم کا وہ حصہ، جو وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان سے ہو کر گزرتا ہے
شاہراہ ریشم کا وہ حصہ، جو وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان سے ہو کر گزرتا ہےتصویر: J. Sorges

اگرچہ امریکی فوج کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں ایک ٹرلین ڈالر مالیت کے معدنی خزانے چھپے ہوئے ہیں تاہم فریڈرک سٹار کے خیال میں نئی شاہراہ ریشم کے راستے تجارت سے افغانستان کو معدنیات سے بھی کہیں زیادہ فائدہ ہو گا۔

امریکہ کا فائدہ یہ ہے کہ افغانستان اور اُس سے ملحقہ ممالک میں تجارت اور اقتصادی ترقی سے پورے خطّے میں امن قائم ہو گا۔ ابھی ستمبر میں نیویارک میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے تیس ہم منصبوں کے ساتھ ’نئی شاہراہ ریشم‘ کے مستقبل پر تبادلہء خیال کیا تھا۔ اس اجلاس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ اُس کے تمام ہمسایہ ممالک کے نمائندے بھی شامل تھے۔

رپورٹ: زِلکے ہاسل مان (واشنگٹن) / امجد علی

ادارت: امتیاز احمد

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں