1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’افغان گوانتانامو بے‘ سے 10 پاکستانی رہا

افسر اعوان16 مئی 2014

امریکی حکام نے افغانستان کے بگرام جیل میں قید 10 پاکستانیوں کو رہا کر دیا ہے۔ روئٹرز نے وکلاء کے حوالے سے بتایا ہے کہ بغیر مقدمہ چلائے کئی برسوں سے قید ان پاکستانیوں کو جمعرات 16 مئی کو خاموشی سے رہا کر دیا گیا۔

https://p.dw.com/p/1C0yK
تصویر: Getty Images

قانونی امداد فراہم کرنے والے ایک ادارے رپرائیو Reprieve کے مطابق رہائی پانے والوں میں ایک ایسا پاکستانی شہری بھی شامل ہے جسے برطانوی فورسز نے عراق سے حراست میں لیا تھا اور پھر اسے افغانستان منتقل کر دیا گیا جہاں اس نے کسی قسم کے مقدمے کے بغیر 10 برس حراست میں گزارے۔

امریکی حکام کے مطابق ایسے افراد جن کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ رہائی کے بعد جنگ کا حصہ بن سکتے ہیں، ان کا مقید رہنا ضروری ہے۔ روئٹرز کے مطابق فوری طور پر یہ بات معلوم نہیں ہو سکی کہ رہائی پانے والوں کو کہاں لے جایا گیا ہے۔

بگرام کی امریکی جیل جسے بعض اوقات ’افغانستان کا گوانتانامو بے‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے افغان دارالحکومت کابل کے شمال ميں ایک وسیع و عریض امریکی فوجی اڈے پر قائم ہے۔ اس جیل میں قید غیر ملکیوں پر لگے الزامات کا جائزہ امریکی ملٹری افسران پر مشتمل بورڈ لیتا ہے تاہم قيديوں کو نہ تو ان کے خلاف حاصل ہونے والے ثبوتوں کے بارے میں جاننے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی اپنی پسند کا وکیل کرنے کی۔ یہ بورڈ ثبوتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہے کہ قیدی امریکی افواج کے لیے مستقبل میں کوئی خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

بگرام کی امریکی جیل کو بعض اوقات ’افغان گوانتانامو بے‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے
بگرام کی امریکی جیل کو بعض اوقات ’افغان گوانتانامو بے‘ کا نام بھی دیا جاتا ہےتصویر: MASSOUD HOSSAINI/AFP/Getty Images

’جسٹس پراجیکٹ پاکستان‘ کے مطابق بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے ان افراد کے خاندان والوں کو مطلع کیا ہے کہ ان قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ رہائی پانے کے بعد یہ لوگ کہاں ہیں۔ ’جسٹس پراجیکٹ پاکستان‘ بگرام جیل میں قید رہنے والے ان پاکستانیوں میں سے کچھ کو قانونی نمائندگی فراہم کر رہا تھا۔

قبل ازیں دسمبر 2013ء میں بھی چھ قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا تاہم انہیں خفیہ انداز میں پاکستانی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں کئی ہفتوں تک قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے بگرام جیل سے رہائی پانے والے ان قیدیوں کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو مطلع نہیں کیا تھا۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے قانونی جنگ لڑنے کے بعد حکام نے ان کی حراست کی تصدیق کی تھی۔

’جسٹس پراجیکٹ پاکستان‘ کی ایک وکیل سارہ بلال نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر رہائی پانے والے افراد کے وکلاء اور ان کے خاندان والوں کو مطلع کرے تاکہ ان افراد کو کسی قسم کے تشدد سے بچایا جا سکے: ’’ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں (پاکستانی فورسز) کے لیے لوگوں پر تشدد کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔ جتنا زیادہ یہ لوگ خفیہ طور پر جیلوں میں موجود رہیں گے ان پر تشدد کا خطرہ اتنا ہی زیادہ بڑھ جائے گا۔‘‘

روئٹرز کے مطابق جب اس معاملے کی تصدیق کے لیے پاکستانی حکام سے رابطے کیے گئے تو ان کی جانب سے کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظمیں ماضی میں بھی پاکستانی حکام پر جسمانی تشدد کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔