1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’اسلامک اسٹیٹ‘ پر حتمی ضرب، اتحادی ممالک نے منصوبہ بنا لیا

عاطف توقیر21 جولائی 2016

شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے بدھ کے روز اپنے ایک اجلاس میں اس تنظیم کو مکمل طور پر ٹھکانے لگانے کے لیے حتمی منصوبہ ترتیب دے دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1JT1E
Washington - Konferenz "Global Coalition to Counter ISIL"
تصویر: picture-alliance/AP Photo/C. Owen

بدھ کے روز اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ و دفاع کے اجلاس امریکی درالحکومت واشنگٹن میں منعقد ہوئے، جن میں اس اتحاد میں شامل تیس سے زائد ممالک کے وزراء نے شرکت کی۔ وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے بتایا کہ اس شدت پسند تنظیم کے سب سے مضبوط گڑھ ’الرقہ‘ شہر کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں میں شدت لائی جائے گی۔ خودساختہ ’خلافت‘ کا دعویٰ کرنے والی یہ شدت پسند تنظیم الرقہ کو اپنا دارالحکومت قرار دیتی ہے۔ کارٹر نے بتایا کہ عراق میں اس تنظیم کے زیرقبضہ سب سے بڑے شہر موصل پر چڑھائی کے منصوبے کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ڈونر ممالک سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ عراق کی تعمیر نو اور وہاں موجود مختلف برادریوں کو شدت پسند سے روکنے کے لیے دو ارب ڈالر مہیا کریں۔

Irak Kämpfe um Mosul
عراقی فوج موصل پر چڑھائی کرنے والی ہےتصویر: picture-alliance/AA/H. Baban

کارٹر نے تاہم کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ کے سرطان‘ کے خاتمے کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تنظیم دہشت گردانہ حملوں کی ترغیب روک دے گی اور اس سے جڑے شدت پسند دنیا کے دیگر علاقوں میں اپنی کارروائیاں نہیں کریں گے۔

کارٹر نے اس اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں بتایا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف قائم بین الاقوامی اتحاد میں شامل مغربی اور عرب ممالک نے اس فوجی منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت عراق اور شامی کی مقامی فورسز کو بھرپور تعاون فراہم کرتے ہوئے اس تنظیم کے زیر قبضہ اہم علاقوں کو چھڑا لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا، ’اس تنظیم کو ویسی شکست دی جائے گی، جیسی اسے ملنا چاہیے۔‘‘

کارٹر نے اس منصوبے کی تفصیلات بتائے بغیر کہا، ’مجھے ایک بات واضح کرنے دیجیے۔ اس منصوبے کے تحت موصل اور رقہ میں اس تنظیم کا ڈھانچہ ختم کر دیا جائے گا۔‘‘

برطانوی وزیردفاع مائیکل فیلون نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراقی اور کرد فورسز کی معاونت کے لیے وہاں اپنے فوجیوں کی تعداد دوگنی کرتے ہوئے پانچ سو کر دے گا۔

واشنگٹن ہی میں اس اتحاد سے وابستہ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جان کیری نے عراق اور شام میں سیاسی اور انسانی امداد جیسے معاملات پر بات چیت کی۔ کیری کا اس اجلاس میں کہنا تھا، ’’داعش کے خلاف لڑائی ابھی خاتمے سے دور ہے مگر ہم مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ موصل ابھی آزاد نہیں ہوا۔ وہاں دہشت گردی ایک معمول بنی ہوئی ہے۔ مگر پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہاں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہم آگے نہیں بڑھ رہے۔ ہماری رفتار تیز ہوتی جا رہی ہے۔‘‘