1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسامہ بن لادن کی فرانس کو دھمکی

22 جنوری 2011

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے کہا ہے کہ نائیجر ڈیلٹا سے اغواء کئے جانے والے فرانسیسی شہریوں کی رہائی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے، اگر فرانس مسلم ممالک سے اپنے فوجی واپس بلائے۔

https://p.dw.com/p/100o6
دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا رہنما اسامہ بن لادنتصویر: AP

جمعہ کو منظر عام پر آنے والے اس آڈیو پیغام میں واضح الفاظ میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر فرانس نے القاعدہ کے اس مطالبے کو تسلیم نہ کیا، تو ان مغویوں کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

الجزیرہ ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اس آڈیو پیغام میں، جس میں بولنے والا غالباﹰ اسامہ بن لادن تھا، کہا گیا، ’افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے حوالے سے صدر نکولا سارکوزی کے مسلسل انکار سے اس کے علاوہ کوئی اور اشارہ نہیں ملتا کہ ان مغویوں کو ہلاک کر دیا جائے۔‘

افغانستان کی پالیسی کے حوالے سے فرانس کے خلاف القاعدہ کی طرف سے جاری ہونے والا یہ دوسرا آڈیو پیغام ہے۔ اس سے قبل شمالی افریقہ میں القاعدہ کی شاخ القاعدہ اِن اسلامک مغرب کی طرف سے ایک بیان میں نائیجر ڈیلٹا سے لاپتہ ہونے والے پانچ فرانسیسیوں سمیت سات غیر ملکیوں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، اسے افغانستان میں فرانسیسی فوج کی موجودگی سے جوڑا گیا تھا۔ یہ افراد گزشتہ برس ستمبر میں اغوا کئے گئے تھے۔

No Flash Nicolas Sarkozy
فرانسیسی صدر نکولا سارکوزیتصویر: AP

گزشتہ ہفتے نائیجر ڈیلٹا میں دو فرانسیسی شہریوں کی لاشیں پائی گئی تھیں۔ القاعدہ کے اس شمالی افریقی بازو نے ان افراد کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی تاہم یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ان افراد کو کس طرح قتل کیا گیا۔

گزشتہ برس 16 ستمبر کو اغواء کئے گئے افراد کی وجہ سے مسلح افراد اور فرانس کے درمیان شدید نوعیت کا تناؤ پیدا ہوا ہے۔ القاعدہ ان اسلامک مغرب نامی اس عسکریت پسند جماعت نے گزشتہ برس فرانس کی طرف سے اپنے ایک شہری کو بازیاب کروانے کی ناکام کوشش کے بعد 78 سالہ Michel Germaneu کو قتل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس وقت فرانس کے مجموعی طور پر آٹھ شہری دنیا بھر میں دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں، جن میں سے پانچ نائیجر ڈیلٹا میں جبکہ ایک صومالیہ اور دو افغانستان میں یرغمال بنائے گئے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: ندیم گِل