1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ابوظہبی کے ولی عہد کا دورہ اسرائیل، صدر ریولین نے دعوت دے دی

17 اگست 2020

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین باقاعدہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد اسرائیلی صدر رووین ریولین نے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کو یروشلم کے سرکاری دورے کی باقاعدہ دعوت بھی دے دی ہے۔

https://p.dw.com/p/3h5FR
ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیانتصویر: picture alliance/Photoshot

تل ابیب سے پیر سترہ اگست کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی صدر رووین ریولین نے اپنے ملک اور متحدہ عرب امارات کے مابین معمول کے باہمی روابط کے قیام کے محض چند روز بعد ہی شیخ محمد بن زید النہیان کو دورہ اسرائیل کی دعوت دے دی ہے۔

Israel Jerusalem | Reuven Rivlin, Staatspräsident
اسرائیلی صدر رووین ریولینتصویر: picture-alliance/dpa/newscom/D. Hill

صدر ریولین نے ابوظہبی کے ولی عہد کو بھیجے گئے اور عربی زبان میں لکھے گئے دعوت نامے کی ایک تصویر کے ساتھ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا، ''میں بہت پرامید ہوں کہ ہمارے دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے معاہدے سے خطے کے عوام کے مابین باہمی اعتماد میں اضافے میں مدد ملے گی۔‘‘

ساتھ ہی اسرائیلی صدر نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ انہیں قوی امید ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین معاہدے سے 'ہمارے خطے کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی‘ اور ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کے باشندوں کے لیے استحکام اور اقتصادی خوشحالی میں بھی اضافہ ہو گا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ابھی گزشتہ جمعرات تیرہ اگست کے روز ہی یہ اعلان کیا تھا کہ ان دونوں ممالک نے امریکی ثالثی میں آپس میں معمول کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بدلے میں اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے کے مزید حصوں کو اپنے ریاستی علاقے میں شامل کرنا بند کر دے گا۔

متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا مجموعی طور پر چوتھا مسلمان، تیسرا عرب اور خلیج کا پہلا ملک ہے۔ ترکی، مصر اور اردن اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ اور بھرپور سفارتی روابط پہلے ہی قائم کر چکے ہیں۔

مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک کی ایک بہت بڑی تعداد نے اسرائیل کو ابھی تک باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین اس معاہدے پر ایران اور ترکی سمیت کئی مسلم ممالک کی طرف سے شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

م م / ع س (ڈی پی اے)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں