شدت پسندی سے متاثرہ باڑہ کے علاقے میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ | حالات حاضرہ | DW | 27.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شدت پسندی سے متاثرہ باڑہ کے علاقے میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ

پشتون تحفظ موومنٹ نے اتوار کو ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں شدید سردی اور بارش کے باوجود سینکڑوں کارکنوں کو اکٹھا کر کے دہشت گردی سے متاثرہ اس علاقے میں اپنا پہلا جلسہ کیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا باڑہ میں جلسہ دیگر علاقوں میں منعقد کیے گئے جلسوں سے اس لیے مختلف ہے کیوں کہ باڑہ ماضی میں مسلک کے بنیاد پر قائم شدت پسند تنظیموں کا گڑھ رہا ہے۔

جلسے سے پہلے منظور پشتین علاقے کے مقامی مشران کو جلسے کی دعوت دینے گئے تو انہیں حکام کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

پی ٹی ایم کے مطابق جلسے میں شرکت کے لیے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نوجوانوں کو راستے میں مختلف چیک پوسٹوں پر گرفتار کیا گیا۔ جلسے کے بعد منظور پشتین نے خود جا کر اور احتجاج کی دھمکی دی جس کے بعد گرفتار شدہ کارکنوں کو رہا کیا گیا۔

فرمان علی شینواری پی ٹی ایم کے نوجوان کارکن ہیں۔ وہ صبح لنڈی کوتل سے دیگر کارکنوں کے ساتھ جلسے کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر لیا۔

فرمان علی شینواری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو روکا اور بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ''میرا نہیں خیال اس طرح کے حربے استعمال کرکے وہ ہمیں اپنے مشن سے روک سکیں گے۔ ایک جمہوری حکومت میں ضم شدہ اضلاع کے نوجوانوں کو ڈرایا نہیں جا سکتا بلکہ ان کو حقوق دے کر ہی رام کیا جا سکتا ہے۔ وہ وقت دور نہیں کہ ہم اپنا حق حاصل کریں لیں گے۔‘‘

دوسری جانب باڑہ پولیس کے ایس ایچ او اکبر خان کہتے ہیں کہ انتظامیہ نے پی ٹی ایم کی قیادت کو مکمل سکیورٹی فراہم کی تھی اور ممکن حد تک کوشش کی تھی کہ عوام کو کوئی تکلیف اور شکایت نہ ہو۔

پی ٹی ایم کے مخالفین کیا کہتے ہیں؟

پی ٹی ایم کے جلسے سے ایک روز قبل باڑہ میں اس جلسے کے خلاف بھی ایک ریلی نکالی گئی تھی۔ اس ریلی کے شرکا کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے جلسے سے علاقے کا امن خراب ہو سکتا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کے حوالے سے ڈی ڈبلیو نے پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے شفیق خان سے بھی گفتگو کی، جو باڑہ سے صوبائی اسمبلی کے رکن بھی ہیں۔ شفیق خان کہتے ہیں کہ پی ٹی ایم ہمیشہ سے ایسا بیانیہ جاری کرتے ہیں جس سے عوام کو اپنی طرف راغب کیا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا، ''منظور پشتین فوج مخالف بیانات کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں نوجوانون کو راغب کرتے ہیں لیکن قبائلی نوجوان کبھی بھی پاکستان اور آرمی کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔ تیراہ کے متاثرین کو معاوضہ مل رہا ہے اور راجگل کے علاقے سے ابھی تک بارودی سرنگیں صاف نہیں کی جا سکیں اس لیے لوگوں کو کچھ وقت کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔ یہی منظور پشتین لینڈ مائنز سے متاثرہ افراد کی بات کرتے ہیں تو اگر آرمی والے جلدی کریں تو بارودی سرنگوں سے مقامی افراد ہی متاثر ہوں گے۔‘‘

پی ٹی ایم رہنماؤں کی تقاریر

موسم کی شدت کے باوجود جلسے میں پی ٹی ایم کے قریب تین ہزار کارکن شریک ہوئے۔ جلسے میں سردی کی شدت ایک چھوٹے بچے کی تقریر سے اس وقت گرم ہوئی جب اس نے بتایا کہ اس کے والد کو سن 2010 میں اٹھا لیا گیا تھا اور اس وقت سے لے کر اب تک وہ اپنی تعلیم کی بجائے اپنے والد کی تلاش میں وقت گزار رہا ہے۔

جلسے سے قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ، سید عالم محسود سمیت پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں نے خطاب بھی کیا۔

محسن داوڑ نے جلسے سے تقریر کرتے ہوئے طورخم بارڈر پر نیشنل لاجسٹک سیل کے کردار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد میں این ایل سی کے حوالے سے حکومتی کمیٹیوں سے بھی پوچھا لیکن ان کے پاس بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔

منظور پشتین نے اپنی تقریر میں شدت پسندی اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی۔

ڈی ڈبلیو نے مقامی لوگوں سے جلسے کے بارے میں گفتگو کی تو زیادہ تر لوگ اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر ہی موقف دینے کے لیے تیار تھے۔ ان افراد کا کہنا تھا کہ وہ گرفتاری اور سکیورٹی اداروں کے خوف کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔

ویڈیو دیکھیے 04:19

منظور پشتین سے کچھ سوال اور ان کے جواب