37 سعودی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی | حالات حاضرہ | DW | 23.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

37 سعودی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی

سعودی عرب نے اپنے سینتیس شہریوں کو سزائے موت دے دی ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال اس عرب بادشاہت کا شمار دنیا میں موت کی سب سے زیادہ سزائیں دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق ان سینتیس سعودی شہریوں کو ’دہشت گردی‘ کے واقعات میں ملوث ہونے کے جرم میں موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں، جن پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔ ریاض میں وزارت داخلہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ان مجرموں کی سزاؤں پر عمل درآمد دارالحکومت ریاض، مکہ، مدینہ، وسطی صوبے قاسم اور اُس مشرقی صوبے میں کیا گیا، جہاں ملکی شیعہ اقلیت کی آبادی کافی زیادہ ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان مجرموں پر دہشت گردانہ اور انتہا پسندانہ سوچ اپنانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے لیے گروپ تشکیل دینے جیسے الزامات ثابت ہو گئے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ افراد ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانا اور سکیورٹی اداروں کو بدعنوان بنانا چاہتے تھے۔

سعودی حکام کے مطابق ان میں سے ایک شخص کو سزائے موت دینے کے بعد اسے مصلوب بھی کر دیا گیا۔ سعودی عرب میں یہ سزا صرف اس شخص کو دی جاتی ہے، جو انتہائی سنگین جرائم میں ملوث رہا ہو۔ سعودی عرب میں کسی مجرم کو سزائے موت دینے کے لیے اس کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق رواں برس کے آغاز سے اب تک سعودی عرب میں کم از کم ایک سو مجرمان کو موت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق تیل کی دولت سے مالا مال اس خلیجی ریاست میں گزشتہ برس ایک سو انچاس افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق 2018ء میں صرف ایران ایک ایسا ملک تھا، جس نے اپنے ہاں سعودی عرب سے بھی زیادہ تعداد میں مجرموں کو سزائے موت دی تھی۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی گروپ سعودی عدالتوں کی طرف سے سنائی جانے والے موت کی سزاؤں اور ایسے مقدمات کی شفافیت کے حوالے سے ریاض حکومت کو اکثر تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ سعودی عرب میں دہشت گردی، قتل، جنسی زیادتی، کسی مسلح واردات اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں ملوث مجرموں کو سزائے موت سنا دی جاتی ہے۔

ا ا / م م ( روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے )