351 دن شامی دہشت گرد گروپ کی قید میں گزارنے والی جرمن صحافی | معاشرہ | DW | 10.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

351 دن شامی دہشت گرد گروپ کی قید میں گزارنے والی جرمن صحافی

جنینا فنڈائسن ایک صحافی ہیں۔ وہ اپنی ایک دوست سے ملنے ایک ایسے موقع پر شام گئیں، جب وہ سات ماہ کی حاملہ تھیں۔ شام میں انہیں اغوا کر لیا گیا اور اسی دوران وہ ماں بھی بنیں۔ انہوں نے351 دن قید میں گزارے۔

کہتے ہیں بُرا وقت کبھی کہہ کر نہیں آتا۔ ایسا ہی ہوا جنینا فنڈائسن کے ساتھ، جب انہوں نے خانہ جنگی کے شکار ملک شام جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وجہ کیا تھی؟ صرف اُن دہشت گردوں اور جہادیوں کے بارے میں خصوصی مواد حاصل کرنا جو خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے جا رہے ہیں۔ ان دہشت گردوں سے لورا نے اِن کا رابطہ کرایا تھا، جو جنینا کی اسکول  کی دوست تھی اور ساتھ ہی وہ دہشت گردوں کے ساتھ بھی تھی۔ لورا بھی دہشت گردوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے دس سال قبل پاکستانی قبائلی علاقے وزیرستان گئی تھی اور اس کے بعد وہ کبھی واپس جرمنی نہیں پہنچی۔

جنینا فنڈائسن نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ میری اولین فلم ہوتی، جس میں لورا سے میری دوستی کی کہانی بیان کی جاتی۔‘‘ یہ بات 2015ء کے موسم خزاں کی ہے۔ فنڈائسن لورا کی والدہ کے ساتھ ترکی کے شہر انطاقیہ گئیں۔ وہاں پر کچھ ایسےاسمگلرز موجود تھے، جن کا کام  انہیں لورا کے پاس لے کر جانا تھا۔ یہ شہر ترکی اور شامی سرحد پر واقع ہے اور یہاں پر حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

اس موقع پر لورا کی والدہ نے واپس جرمنی آنے کا فیصلہ کیا مگر حاملہ صحافی نے تمام تر انتباہ کے باوجود اپنا سفر جاری رکھنے کی ٹھانی، ’’مجھے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی اور یہ میرے لیے اہم تھی۔  اگر میں آج کے حوالے سے سوچوں تو میری طرف سے یہ بہت بڑی نادانی تھی۔ لیکن اس وقت میرے اندازے غلط تھے۔‘‘

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو مزید بتایا، ’’مجھے میری دوست کی جانب سے تحفظ کی ضمانت ایک ای میل کے ذریعے بھیجی گئی تھی اور اس وقت اس کے الفاظ میرے لیے کافی تھے۔‘‘ اسمگلر جنینا فنڈائسن کو لے کر شمالی شام پہنچے، جہاں ان کی ملاقات لورا سے کرائی گئی۔ انہوں نے یہاں آٹھ دن گزارے۔

دہشت گردوں کا ساتھ دینے والی لورا اور جنینا بون کے اسکول میں ساتھ پڑھتی رہی ہیں، ’’وہ ہمیشہ سے میری دوست تھی، ہم ایک دوسرے کو بہت عرصےسے جانتے تھے۔ ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد تھا اور یہی میرے سفر کی وجہ بھی بنی۔‘‘

جنینا اور لوار نے بہت سا وقت ایک دوسرے سے ساتھ گزار اور اس دوران جنینا نے النصرہ فرنٹ کے کئی کمانڈروں سے انٹرویو بھی کیے۔ یہی وہ دہشت گرد گروہ ہے، جس نے بعد ازاں جنینا کو اغوا  بھی کیا تھا۔ اس دوران ان لوگوں نے قریبی علاقوں کے دورے کیے، ’’ہم ادلب گئے اور میں نے گاڑی کے شیشے نیچے کر کے ویڈیو بھی بنائی۔‘‘

جب جنینا کے پاس مناسب مواد اکھٹا ہو گیا تو اس نے اپنی دوست سے رخصت لی اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ترکی کی سرحد کی جانب روانہ ہوئی۔ لورا کے گروہ کا ایک جنگجو اس موقع پر جنینا کے ہمراہ تھا۔ سرحد سے کچھ ہی دور گاڑی رک گئی، ’’مجھے کچھ عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔ کیونکہ ٹیکسی کی رفتار بہت کم ہوتی تو کبھی بہت بڑھ جاتی۔ پھر متعدد نقاب پوش مسلح مردوں نے ٹیکسی کو روک لیا۔ انہوں نے ڈرائیور اور ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو گاڑی سے باہر نکالا اور خود گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ایک جنگجو میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ میں خوفزدہ تھی لیکن پھر بھی پرسکون انداز میں بیٹھی رہی کیونکہ مجھے علم تھا کہ میں کچھ کر نہیں سکتی۔‘‘

اغوا کاروں نے جنینا کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور گاڑی چل پڑی۔ وہ 351 دنوں تک جنگجوں کے قبضے میں رہیں اور ہر چند ماہ میں ان کا ٹھکانہ تبدیل کیا گیا۔  انہیں یہ علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ دیے جانے والے احکامات پر عمل کیا، نہ شور مچایا اور نہ ہی فرار ہونے کی کوشش کی۔ انہیں کپڑے اور کھانا دیا جاتا تھا اور کمرے سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کبھی کبھار جب ٹیلی وژن دیکھنے کا موقع ملا تو انہوں نے ڈی ڈبلیو ہی کی نشریات دیکھیں۔

 وہ مزید بتاتی ہیں کہ زچگی کا وقت جیسے جیسے قریب آ رہا تھا ان کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ انہوں نے کئی مرتبہ اس امید کے ساتھ درد کا بہانہ کیا کہ شاید انہیں ہسپتال لے جایا جائے، ’’اس کے بعد میرے پاس ایک ماہر زچہ بچہ ڈاکٹر کو لایا گیا۔ انہوں نے اس کے شوہر کو بھی اغوا کیا تھا تاکہ وہ کچھ بھی نہ کہے اور زچگی پر توجہ دے۔ انہوں نے اسے کہا تھا کہ اگر مجھے یا بچے کو کچھ ہوا تو وہ اس کے شوہر کو قتل کر دیں گے۔ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔‘‘

 وہ مزید بتاتی ہیں کہ اس دوران انہوں نے اپنے بچپن، اپنے لڑکپن اور اپنی جوانی میں گزارے گئے اچھے لمحات کو یاد کیا اور اس دباؤ کو برداشت کرنے کی کوشش کی۔

گیارہ ماہ بعد اچانک کچھ نقاب پوش افراد گھر میں داخل ہوئے، ’’ان افراد نے میرا نام پکارا اور مجھے اپنے ساتھ باہر لے گئے۔‘‘ اس موقع پر انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ’’مجھے لگا کہ یہ کوئی دوسرا دہشت گرد گروہ ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ لوگ مجھے آزاد کرانے آئے ہیں۔‘‘

جنینا کے بقول، ’’ ان افراد کا تعلق بھی النصرہ فرنٹ کے ایک اور گروپ سے تھا۔ یہ لوگ مجھے دیے گئے تحفظ کا وعدہ پورا کرنا چاہتے تھے۔ ان افراد نے میری آنکھوں پر سے پٹی ہٹائی اور مجھے میرے بیٹے کے ساتھ ایک گاڑی پر بٹھایا اور ترکی کی سرحد پر لائے۔ جہاں پر جرمن حکام میرے انتظار میں کھڑے تھے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:29

’’اگر میرے بچے نہیں ہوتے، تو میں نے خود کشی کرلی ہوتی۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic