250 افراد کا افغان حکومتی وفد: دوحہ میں شادی نہیں ہے، طالبان | حالات حاضرہ | DW | 17.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

250 افراد کا افغان حکومتی وفد: دوحہ میں شادی نہیں ہے، طالبان

افغان طالبان نے کابل حکومت کے اس فیصلے کا تمسخر اُڑایا ہے، جس کے تحت اس نے قطر میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے دو سو پچاس افراد کی فہرست تیار کی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے افغان حکومت کی تیار کردہ فہرست کا مذاق اڑاتے ہوئے بدھ کے روز کہا ہے، ’’جنہوں نے بھی فہرست تیار کی ہے، انہیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اس کانفرنس کا انعقاد خلیجی ریاست  قطرکر رہی ہے اور یہ کابل کے ہوٹل میں ہونے والی کوئی شادی کی پارٹی نہیں ہے۔‘‘ ان کا مزید تھا کہ یہ کسی ضیافت کا دعوت نامہ نہیں ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی طویل فہرست مرتب کرتے ہوئے کابل حکومت امن مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے دانستہ کوشش کر رہی ہے، ’’قطر حکومت مذاکرات کے لیے اتنے زیادہ لوگوں کو منظور نہیں کرے گی۔‘‘

گزشتہ روز افغان حکومت نے ڈھائی سو ایسے شہریوں کے ناموں کا اعلان کیا تھا، جو اسی ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں حصہ لیں گے۔ اس بات چیت کو ’افغان دھڑوں کی اندرونی مکالمت‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس میں شرکت کے لیے کابل حکومت کے اعلان کردہ ڈھائی سو شہریوں کے ناموں میں تقریباﹰ پچاس خواتین بھی شامل ہیں۔ افغان طالبان نے کابل حکومت کے نمائندوں کے ساتھ براہ راست مکالمت سے انکار کر دیا تھا۔ اسی لیے یہ افغان باشندے دوحہ میں عام شہریوں کے طور پر طالبان سے بات چیت کریں گے۔

دریں اثناء سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ دوحہ حکومت پہلے ہی دو سو اراکین کے قطر آنے سے متعلق اتفاق کر چکی ہے۔ افغانستان امن کونسل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات قطر کے ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے کروائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس ادارے کا نام تو نہیں بتایا لیکن یہ ضرور کہا ہے کہ یہ ادارہ دوحہ حکومت کی سرپرستی میں تحقیقی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ا ا / ع ح ( ڈی پی اے، اے ایف پی)

DW.COM