10 ہزار ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی ہے، بن لادن | حالات حاضرہ | DW | 09.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

10 ہزار ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کردی ہے، بن لادن

سعودی عرب کے بن لادن گروپ نے کہا ہے کہ اس نے اپنے 10 ہزار ملازمین کو کئی ماہ کی تاخیری اجرتیں ادا کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس گروپ نے حال ہی میں کئی ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بن لادن کے چیف کمیونیکشنز آفیسر یاسین العطاس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے قریب 10 ہزار ملازمین کو تنخواہوں کو ادا کرنے کے لیے انتظامات کر لیے ہیں۔‘‘

العطاس کے مطابق یہ انتظام سعودی عرب کی لیبر منسٹری کی ہم آہنگی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ہی ’’ہمیں اپنے گاہکوں سے‘‘ رقوم ملنا شروع ہوں گی تو ’’ہم بقیہ ملازمین کے لیے بھی ایسے ہی انتظامات کریں گے۔‘‘ اے ایف پی کے مطابق گاہکوں سے مراد سعودی حکومت ہی ہے۔

ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو رواں برس مارچ میں بتایا تھا کہ حکومت کی طرف سے رقوم ملنے میں تاخیر کے باعث سعودی عرب کی کنسٹرکشن کی بڑی ترین کمپنیوں میں سے ایک بن لادن کو مشکلات میں ڈال دیا ہے اور وہ ملازموں کو تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہے۔ خیال رہے کہ سعودی حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مالی مشکلات کا شکار ہے۔

سعودی بن لادن گروپ کو اُس وقت بھی شدید دھچکا لگا تھا جب گزشتہ برس ستمبر میں مکہ میں قائم مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام میں ایک تعمیراتی کرین گرنے کے سبب درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سعودی حکومت نے بن لادن کو مزید سرکاری ٹھیکے دینے کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب کی ایک اور بڑی کنسٹرکشن کمپنی ’سعودی اوگر لمیٹڈ‘ کے اسٹاف نے بھی تنخواہیں نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔

بن لادن گروپ کے چیف کمیونیکشنز آفیسر یاسین العطاس کے مطابق حکومت نے ان کی کمپنی سمیت دیگر کنسٹرکشن کمپنیوں کو رقوم کی ادائیگی کے وعدے کیے ہیں۔

اشتہار