’یہ امداد نہیں ہے‘، امریکی امداد کی بندش پر پاکستان کا ردعمل | حالات حاضرہ | DW | 02.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’یہ امداد نہیں ہے‘، امریکی امداد کی بندش پر پاکستان کا ردعمل

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نئی حکومت امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش مند ہے اور اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران اپنا موقف پیش کیا جائے گا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کی طرف سے کولیشن سپورٹ فنڈز کی رقوم کی ممکنہ بندش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امداد نہیں بلکہ وہ رقوم ہیں، جو پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں خود خرچ کی ہیں اور امریکا نے یہ رقوم پاکستان کو واپس کرنا ہیں۔

ہفتے کی رات امریکی حکومت نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو تین سو ملین کی امداد فراہم نہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ واشنگٹن حکومت کا الزام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ’فیصلہ کن کردار‘ ادا نہیں کر سکا ہے، اس لیے امداد کی بندش کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

واشنگٹن حکومت پاکستان پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرے۔ تاہم اس تناظر میں اسلام آباد کی طرف سے امریکا کی جنوبی ایشیا کی نئی امریکی حکمت عملی پر مناسب اقدامات نہ کر سکنے پر یہ امداد روکی جا رہی ہے۔

تاہم پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اتوار کی شام میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ امداد نہیں بلکہ پاکستان کا ہی پیسہ ہے، جو واشنگٹن نے اسے واپس کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ پانچ ستمبر کو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، جس دوران ان سے اس بارے میں تفصیلی گفتگو ہو گی۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ اسلام آباد حکومت امریکا سے باہمی احترام پر مبنی رشتہ چاہتی ہے اور اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ سے گفتگو کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈز کے حوالے سے گزشتہ حکومت کی طرف سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار تھا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب نئی حکومت امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کی بحالی کرے گی اور اپنا موقف امریکا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق اسلام آباد حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں قربانی دیتی آئی ہے اور مستقبل میں بھی وہ امریکا کے ساتھ مل کر اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

ع ب / ا ا / خبر رساں ادارے

DW.COM