یہودی بستیوں کے خلاف کیری کی تقریر: اسرائیل میں ہنگامہ | حالات حاضرہ | DW | 29.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یہودی بستیوں کے خلاف کیری کی تقریر: اسرائیل میں ہنگامہ

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے ایک خطاب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کیری کی تقریر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے، جو چند ہی ہفتوں میں اپنے عہدے سے رخصت ہونے والے ہیں، اپنی ستّر منٹ طویل تقریر میں کہا کہ اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی پالیسی مشرقِ وُسطیٰ میں امن کے امکانات کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ کیری کے مطابق اگر اسرائیل عربوں کے ساتھ کسی ایسے حل تک نہ پہنچ سکا، جس میں اسرائیلی اور فلسطینی اپنی الگ الگ ریاستوں میں زندگی گزار سکیں تو اسرائیل کبھی بھی ’حقیقی امن سے آشنا نہ ہو سکے گا‘۔

کیری کے اس خطاب کے جواب میں اسرائیل میں ایک ہنگامہ بپا ہو گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے فوری طور پر جوابی بیان جاری کرتے ہوئے کیری پر جانبداری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اسرائیل کو غیر ملکی لیڈروں کے لیکچرز کی ضرورت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیل نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی توقع کر رہا ہے، جنہوں نے زیادہ اسرائیل نواز پالیسی اختیار کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

کیری کا یہ خطاب اسرائیل اور اوباما انتظامیہ کے مابین تلخ تعلقات کے اُس آٹھ سالہ سلسلے کی آخری کڑی تھا، جو یہودی بستیوں اور ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر طے پانے والی ڈیل پر اختلافات سے عبارت رہے۔

یہ تعلقات گزشتہ جمعے کو نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے جب سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف ایک قرارداد کو ویٹو نہ کرنے پر اسرائیلی حکومت نے اوباما اور کیری کو آڑے ہاتھوں لیا۔

گو اِس قرارداد پر ووٹنگ سے امریکا غیر حاضر رہا تھا تاہم اپنے کل کے خطاب میں کیری نے اس قرارداد کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل اب صحیح معنوں میں خطرے میں ہے اور یہ کہ امریکا نے اس خطّے میں امن کی خاطر بے شمار مرتبہ کھلے عام اور نجی سطح پر بھی اسرائیل سے بستیوں کی تعمیر روک دینے کی اپیل کی ہے۔

Israel Premierminister Benjamin Netanjahu (Reuters/B. Ratner)

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو

نیتن یاہو نے کہا کہ پوری عرب دُنیا میں آگ لگی ہوئی ہے لیکن کیری نے اپنا سارا زورِ خطابت صِرف یہودی بستیوں پر صَرف کر دیا گویا یہ موضوع ’اُن کے سر پر سوار ہو گیا ہے‘۔ بدھ کو اسرائیل نے زبردستی ساتھ ملائے گئے علاقے مشرقی یروشلم میں یہودی آبادکاروں کے لیے ایک کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر کی منظوری دیتے ہوئے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنی اس پالیسی پر قائم رہےگا۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو کو سب سے زیادہ ووٹ اِنہی آبادکاروں کی طرف سے ملتے ہیں۔

اُدھر نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں اسرائیل کو حوصلہ دے رہے ہیں: ’’اسرائیل! ثابت قدم رہو، بیس جنوری آ رہا ہے۔‘‘ نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک جائزے کے مطابق اسرائیل مستقبل کی ٹرمپ انتظامیہ کی وجہ سے تو پُر امید ہے تاہم کیری کے اس خطاب کے بعد اُسے خدشہ یہ ہے کہ اور ممالک بھی اسرائیل کی جانب کیری ہی کی طرح کا موقف اپنائیں گے اور یوں اسرائیل کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑ سکتی ہے جیسے کہ جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے فوری طور پر کیری کے موقف کی پُر زور تائید کرتے ہوئے دو ریاستی حل کو اسرائیلی فلسطینی تنازعے کا واحد حل قرار دیا ہے۔

ٹرمپ صدر بننے کے بعد امریکی سفارت خانے کو بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور اُنہوں نے اسرائیل میں سفیر بھی ایک ایسے شخص کو مقرر کیا ہے، جو ایک بڑی یہودی بستی کے لیے عطیات جمع کرتا رہا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار