1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Ukraine Lysychansk Soldaten Artillerieangriff
تصویر: Aris Messinis/AFP
تنازعاتیورپ

یوکرین جنگ برسوں تک جاری رہ سکتی ہے، نیٹو سربراہ کی تنبیہ

20 جون 2022

نیٹو کے سربراہ نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کو برسوں تک جاری رہنے والی اس جنگ میں یوکرین کی حمایت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ادھر روس کی افواج نے سیویروڈونٹسک کے قریب ایک اور گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔

https://www.dw.com/ur/%DB%8C%D9%88%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA-%D8%AA%DA%A9-%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B1%DB%81-%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D9%86%DB%8C%D9%B9%D9%88-%D8%B3%D8%B1%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%86%D8%A8%DB%8C%DB%81/a-62185872

نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے اخراجات تو بہت زیادہ ہیں لیکن ماسکو کی اپنے فوجی مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کی قیمت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ ادھر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اس تنازعے کے طویل المدتی ہونے کے لیے خبردار کیا ہے۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے کہا کہ مزید ہتھیار فراہم کرنے سے یوکرین کی فتح کے امکانات زیادہ روشن ہو جائیں گے۔ جرمن اخبار بِلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے نیٹو کے سربراہ نے کہا، ''ہمیں اس حقیقت کے لیے تیاری کرنی چاہیے کہ اس میں برسوں لگ سکتے ہیں۔''

ان کا مزید کہنا تھا، ''صرف عسکری امداد کے لیے ہی نہیں بلکہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے بھی اس کے اخراجات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں، تاہم ہمیں یوکرین کی حمایت سے باز نہیں آنا چاہیے، چاہے اس کے اخراجات کتنے ہی زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔''

مغربی فوجی اتحاد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یوکرین کو مزید جدید ہتھیار فراہم کرنے سے اس کے ملک کے مشرقی ڈونباس علاقے کو آزاد کرانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس علاقے کا بیشتر حصہ اس وقت روس کے کنٹرول میں ہے۔

ادھر برطانوی فوج کے نئے سربراہ نے کہا ہے کہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو اس قابل ہونے کی ضرورت ہے کہ وہ روس کے ساتھ زمینی جنگ جیت سکیں۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے سنڈے ٹائمز میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ''عدم تشدد کی مہم'' کا سہارا لیکر ''سراسر بربریت سے یوکرین کو کچلنے کی کوشش کی ہے۔''

انہوں نے لکھا، ''مجھے ڈر ہے کہ ہمیں ایک طویل جنگ کے لیے خود کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت ایک اہم عنصر ہے۔ ہر چیز کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ آیا یوکرین اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی اپنی صلاحیت کو روس سے زیادہ تیزی سے مضبوط بنا سکتا ہے، یا پھر روس اس سے بھی پہلے حملہ کرنے کی اپنی صلاحیت کی تجدید کر سکتا ہے۔''

Lysychansk, Ukraine - Brücke nach Severdonetsk
تصویر: Madeleine Kelly/SOPA/Zuma/picture alliance

سیویروڈونٹسک کے قریبی گاؤں پر روس کا قبضہ

روس کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے لوہانسک کے علاقے میں سیویروڈونٹسک کے قریب میٹیولکائن گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس علاقے میں حملہ شروع ہونے سے قبل تک گاؤں میں تقریبا آٹھ سو باشندے رہتے تھے۔

یہ گاؤں سیویروڈونٹسک کے بڑے صنعتی مرکز سے جنوب مشرق میں تقریباً چھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یوکرین کی فوج نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کہ روسی افواج نے علاقے میں، ''جزوی کامیابی'' حاصل کر لی ہے۔''

یوکرین کو یورپی یونین کے امیدوار کی حیثیت کا انتظار ہے

یوکرین کے صدر وولودمیر زیلنسکی نے گزشتہ رات اپنے یومیہ ویڈیو خطاب کے دوران، یورپی یونین کی رکنیت کے حوالے سے کہا کہ یوکرین کے لیے ایک ''تاریخی ہفتے'' کا آغاز ہو گیا ہے۔

برسلز یوکرین سے متعلق یورپی یونین کے رکن کی امیدوار کی حیثیت کے حوالے اپنا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اسی حوالے سے انہوں نے کہا، ''میرے خیال میں یہ سب کے لیے عیاں ہے کہ سن 1991 کے بعد سے یوکرین سے متعلق ایسے چند ناخوشگوار فیصلے ہوئے جس کی توقع ہم اب کر رہے ہیں۔''

زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرین کا یورپی یونین سے الحاق، ''تمام یورپ کے مفادات کو پورا کرتا ہے۔''

یوکرین کے صدر نے خبردار کیا کہ اب کییف روسی افواج کی جانب سے ہونے والی سرگرمیوں میں مزید شدت کی توقع کر رہا ہے۔ ان کا کہنا

 تھا کہ ماسکو خارکیف کے آس پاس اور زاپوریزہیا کے علاقوں میں اپنی افواج کو تیزی سے تیار کر رہا ہے۔

ص ز/ ج ا (اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز)

کیا چین عالمی خوراک کے بحران کو حل کرے گا؟