یونان کے ساتھ ملک کے نام کی ڈیل قبول نہیں، ایوانوف | حالات حاضرہ | DW | 14.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان کے ساتھ ملک کے نام کی ڈیل قبول نہیں، ایوانوف

مقدونیہ کے صدر گیورگے ایوانوف نے یونان کے ساتھ ملک کے نام سے متعلق طے پانے والے معاہدے پر دستخطوں سے انکار کرتے ہوئے اس معاہدے کو ’نقصان دہ‘ قرار دیا ہے۔

مقدونیہ اور یونان کے درمیان ’مقدونیہ‘ لفظ پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یونان کے شمالی صوبے کا نام مقدونیہ ہے، جب کہ سابقہ یوگوسلاویہ سے آزاد ہونے والی ریاست مقدونیہ بھی یہی لفظ بہ طور شناخت استعمال کرتی ہے۔ اسی تناظر میں یونان نے مقدونیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کو روک رکھا ہے۔

یورپی ملک مقدونیہ کا نام اب جمہوریہ شمالی مقدونیہ ہو گا

مقدونیہ نام کا آخر جھگڑا کیا ہے؟

مہاجرین میں سے صرف ایک اعشاریہ پانچ فیصد واپس جائیں گے

ایوانوف نے اس معاہدے پر دستخط سے انکار کرتے ہوئے کہا، ’’نام کے حوالے سے معاہدہ وزیراعظم زوران زائف اور وزیرخارجہ نکولا دیمیتروف کی ذاتی ڈیل ہے۔‘‘

مقدونیہ کے صدر کا مزید کہنا ہے، ’’یہ معاہدہ مجھے قبول نہیں ہے اور میں اسے قانونی شکل دینے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘

ٹی وی پر اپنے خطاب میں ایوانوف نے کہا کہ اس معاہدے میں یونان کو وہ سب کچھ دے دیا گیا ہے، جو وہ مانگ رہا تھا جب کہ اس کے عوض مقدونیہ کو کچھ نہیں ملا۔ ’’میں یونان کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے پر دستخط نہیں کروں گا۔‘‘

صدر کے اس خطاب کے بعد قریب دو ہزار افراد نے اس معاہدے کے خلاف دارالحکومت سکوپیے میں مظاہرہ بھی کیا۔ ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے جاری رکھیں گے۔

اسی تناظر میں پارلیمان کی عمارت پر ایک فائر بم بھی پھینکا گیا، جو کسی نقصان کا باعث نہیں بنا۔ اس کے علاوہ پتھروں اور بوتلوں کے ذریعے بھی پارلیمان کی عمارت کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق علاقے میں کشیدگی کے تناظر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب یونانی اپوزیشن نے بھی اس معاہدے پر شدید تنقید کی ہے۔ یونانی اپوزیشن پارٹی نیو ڈیموکریسی کے سربراہ کیریاکوس میتسوتیاکِس نے اس معاہدے کو ’قومی شکست‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایتھنز نے اس معاہدے میں مقدونیہ کی زبان اور نسل قبول کی۔

اس مناسبت سے تازہ پیش رفت یہ ہے کہ اپوزیشن سیاسی جماعت نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروائی ہے۔ اس قرارداد پر رائے شماری جمعرات چودہ جون کی شام میں ہو گی۔

یونانی پارلیمان میں حکمران جماعت کو تین سو نشستوں والے ایوان میں ایک سو چون اراکان کی حمایت حاصل ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس معاہدے پر حکومت کے اتحادی کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

اس سے قبل مقدونیہ کے وزیراعظم زائیف اور یونانی وزیراعظم اسپراس نے اعلان کیا تھا کہ بلقان کی اس چھوٹی سی ریاست کے نام کے حوالے سے گزشتہ 27 برسوں سے جاری تنازعے کا حل نکال لیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مقدونیہ کا نیا نام ریپبلک آف نادرن مقدونیہ طے کیا گیا تھا۔ اسپراس کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے یونانی صوبے مقدونیہ اور جمہوریہ مقدونیہ کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔

ع ت / ع ح / روئٹرز

DW.COM