یونان کو مزید رقم کی فراہمی، معاشی بحران جلد ختم ہونے کی امید | حالات حاضرہ | DW | 23.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یونان کو مزید رقم کی فراہمی، معاشی بحران جلد ختم ہونے کی امید

یورو زون کے وزرائے اقتصادیات نے یونان کو مزید چھ اشاریہ سات بلین یورو فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ یونان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے دیا جانے والا بیل آؤٹ پیکج اس برس آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

یونان کو تیسرے بیل آؤٹ پیکج کی فراہمی کا سلسلہ سن 2010 میں اس وقت شروع کیا گیا تھا جب یورپی یونین اور یورو زون کے اس رکن ملک کے بھاری قرضوں کے باعث یورو کرنسی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ اسی بیل آؤٹ پیکج کے سلسلے میں یورو زون کے رکن ممالک کے وزرائے اقتصادیات نے یونان کو مزید چھ اشاریہ سات بلین یورو فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

مزید پڑھیے: ’ڈوبتے مہاجر بچوں پر مگرمچھ کے آنسو، یورپی یونین منافق‘

مزید پڑھیے: نیا بیل آؤٹ پیکج: قرض دہندگان کے مذاکراتی نمائندے یونان میں

بیل آؤٹ پیکج اس برس اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور یونان کو فراہم کی جانے والی موجودہ مالی امداد کا سلسلہ رواں برس اگست کے مہینے میں ختم ہو رہا ہے۔ یورپی یونین کو امید ہے کہ مزید رقم کی فراہمی اور بیل آؤٹ پیکیج مکمل ہونے کے بعد یونانی معیشت مستحکم ہو جائے گی۔

یورپی یونین کے اقتصادی امور کے کمشنر پیئر موسکویسی نے یورپی یونین کے وزرائے اقتصادیات کی جانب سے یونان کو مزید مالی امداد کی فراہمی کے فیصلے کے بعد کہا کہ سن 2018 یونان کے لیے فیصلہ کن سال ثابت ہو گا۔

برسلز میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موسکویسی کا کہنا تھا، ’’رواں برس یونان کو مالی امداد کی فراہمی کا طویل عرصہ ختم ہو جائے گا، اس دوران یونانی عوام کو شدید مشکل وقت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کٹھن مرحلے کے بعد یونان ایک طاقتور اور مستحکم ملک بن کر ابھرے گا۔‘‘

انیس رکنی یورو گروپ کے پرتگال سے تعلق رکھنے والے سربراہ ماریو سینٹینو کا کہنا تھا کہ وہ ایتھنز حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھی ’تکنیکی معاونت‘ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم برلن حکومت ایسے منصوبوں کی مخالفت کر رہی ہے۔ یونانی قرضوں کا حجم اس یورپی ملک کی سالانہ آمدن کا 180 فیصد بنتا ہے۔

یونان کو تازہ مالی امداد کی فراہمی کے سلسلے میں 5.7 بلین یورو کی فراہمی فوری طور پر آئندہ ماہ فروری میں کر دی جائے گی۔ تاہم مزید ایک بلین یورو کی فراہمی یوروزون کے حکام کی جانب سے یونان میں کی جانے والی معاشی اصلاحات کا جائزہ لینے کے بعد کی جائے گی۔

سن 2010 میں یونان کو بیل آؤٹ پیکج دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور اس ضمن میں ایتھنز حکومت کو یوروزون کی جانب سے مجموعی طور پر 86 بلین یورو کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے: یونان کو اربوں یورو کی ادائیگی، یورپی وزرائے خزانہ کی کوششیں

مزید پڑھیے: یونان: ہڑتال کے باعث کاروبار زندگی مفلوج

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات