یونان کا جرمنی سے سینکڑوں ارب یورو زر تلافی کی طلبی کا فیصلہ | حالات حاضرہ | DW | 18.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یونان کا جرمنی سے سینکڑوں ارب یورو زر تلافی کی طلبی کا فیصلہ

یونانی پارلیمان نے فیصلہ کیا ہے کہ نازی جرمنی کی طرف سے دوسری عالمی جنگ کے دوران خوفناک جنگی جرائم اور بے تحاشا مادی نقصانات کے ازالے کے لیے یونان جرمنی سے سینکڑوں ارب یورو کے زر تلافی کا مطالبہ کرے گا۔

default

نازی جرمن دستوں نے اپریل 1941ء سے لے کر ستمبر 1944ء تک یونان پر قبضہ کیے رکھا تھا

ایتھنز میں ملکی پارلیمان کے ایک فیصلے کے مطابق یونان دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے سات عشرے سے بھی زائد عرصے بعد اب جرمنی سے یہ باضابطہ مطالبہ کرے گا کہ برلن ایتھنز کو ممکنہ طور پر 290 ارب یورو تک کے زر تلافی کی ادائیگی کرے۔

یونانی پارلیمان نے یہ فیصلہ بدھ سترہ اپریل کو اکثریتی رائے سے کیا اور ملکی ماہرین کے ایک کمیشن مطابق ان رقوم کی مالیت 290 ارب یورو تک ہو سکتی ہے۔ اس بارے میں ایوان میں ایک مسودہ قرارداد پارلیمانی اسپیکر نیکوس وُوٹسِس نے پیش کیا، جس میں ملکی حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام سفارتی اور قانونی اقدامات کرے، جو جرمنی سے اس مالی ازالے کی وصولی کے لیے ناگزیر ہیں۔

شروع میں زبانی مطالبہ

مسودہ قرارداد کے مطابق شروع میں یونان جرمنی سے یہ مطالبہ زبانی طور پر یعنی سیاسی قیادت کی سطح پر کرے گا۔ عام طور پر اگر کوئی ریاست ایسا کرنا چاہے، تو اسے اپنا مطالبہ تحریری طور پر جرمن وزارت خارجہ تک پہنچانا چاہیے۔ اس بارے میں وزیر اعظم الیکسس سپراس نے پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا، ’’جرمنی سے اس زر تلافی کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا ہمارا ایسا تاریخی اور اخلاقی فرض ہے، جس میں کوئی کوتاہی نہیں کی جا سکتی۔‘‘

Griechisches Parlament - Syntagma-Platz

ایتھنز میں یونانی پارلیمان کی عمارت

سپراس نے کہا کہ ایتھنز کے اس مطالبے کا یونان کو گزشتہ کئی برسوں سے درپیش مالیاتی بحران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یونان کی یہ خواہش ہے کہ اس طرح اس کے ذمے واجب الادا کئی سو ارب یورو کے قرضوں کی واپسی کے عمل کو تیز تر کیا جا سکے۔ سپراس نے تاہم یہ دعویٰ بھی کیا کہ مالیاتی بحران کے سلسلے میں بین الاقوامی بیل آؤٹ پیکجز کے بعد اب وہ مناسب ترین وقت ہے کہ یونان جرمنی سے اس زر تلافی کی ادائیگی کا مطالبہ کرے۔

سپراس 2015ء کے پارلیمانی الیکشن میں یونانی عوام سے جن وعدوں کے بعد اقتدار میں آئے تھے، ان میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ وہ اپنے ملک کے عوام کو دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمن دستوں کی طرف سے کی گئی زیادتیوں اور جنگی جرائم کی تلافی کے لیے ازالے کی رقوم دلوائیں گے۔

یونان پر نازی قبضے کے حقائق

دوسری عالمی جنگ کے دوران اڈولف ہٹلر کی قیادت میں جرمنی کی نیشنل سوشلسٹ یا نازی حکومت کے فوجی دستوں نے اپریل 1941ء سے لے کر ستمبر 1944ء تک یونان پر قبضہ کیے رکھا تھا۔ اس دوران تقریباﹰ تین لاکھ یونانی باشندوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

Griechenland Parlament in Athen Abstimmung Reparationsforderungen an Deutschland Alexis Tsipras

یونانی وزیر اعظم سپراس پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے

اس تقریباﹰ ساڑھے تین سال تک کے قوجی قبضے کے عرصے میں نازی جرمن فوج نے یونان میں کئی بار عام شہریوں کا قتل عام کیا تھا۔ ان واقعات میں سے لنگیادیس، دِستومو، کالاوریتا، کاندانوس اور ویانوس جیسے شہروں اور قصبوں میں کیے جانے والے قتل عام کے واقعات بڑے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

یونانی صدر کا موقف

یونان میں، جس کے لیے نازی قبضے کے دور سے بہت سی تکلیف دہ یادیں جڑی ہوئی ہیں، ملکی صدر پروکوپِس پاولوپولوس بھی اس زر تلافی کے مطالبے اور اس کی ادائیگی کے بڑے حامی ہیں۔ انہوں نے اس سال کے اوائل میں زور دے کر کہا تھا کہ ایسا مطالبہ کرنا یونان کا حق ہے اور اس متنازعہ معاملے میں فیصلہ یورپی سطح پر کسی بااختیار قانونی ادارے یا فورم کو کرنا چاہیے۔

جرمنی کے لیے یہ باب بند ہو چکا ہے

جہاں تک یونان کے اس آئندہ مطالبے کے بارے میں وفاقی جرمن حکومت کے موقف کا تعلق ہے تو برلن میں میرکل حکومت کے ترجمان اشٹیفن زائبرٹ نے ایتھنز میں پارلیمانی قرارداد پر کسی فیصلے سے پہلے ہی اس موقف کی وضاحت کر دی تھی۔

ترجمان کے مطابق وفاقی حکومت کو اس بارے میں بہت افسوس بھی ہے اور گہرا احساس جرم بھی کہ نازی دور میں جرمن دستوں نے یونان پر قبضے کے برسوں میں وہاں کیا کیا ظلم ڈھائے تھے، لیکن اس کے با وجود کسی مالی ازالے کی ممکنہ ادائیگی سے متعلق جرمن حکومت کی سوچ اب بھی وہی ہے جو پہلے تھی۔

میرکل حکومت کے ترجمان کے بقول، ’’برلن حکومت کا خیال یہ ہے کہ یہ معاملہ قانونی اور سیاسی سطح پر اور حتمی طور پر بھی حل کیا جا چکا ہے۔‘‘

جرمنی ماضی میں یونان کی طرف سے اس بارے میں گاہے بگاہے کیے جانے والے بالواسطہ ذکر پر یہ بھی کہہ چکا ہے کہ ایتھنز کو ایسی کوئی ادائیگیاں نہیں کی جائیں گی۔

اس لیے کہ ایک تو 1953ء میں لندن میں طے پانے والے قرضوں سے متعلق معاہدے میں جرمنی کو ہر طرح کے زر تلافی کی ادائیگی کی ذمے داری سے آزاد کر دیا گیا تھا اور دوسرے یہ کہ 1990ء میں بین الاقوامی سطح پر ’دو جمع چار‘ کی بنیاد پر طے پانے والے دونوں جرمن ریاستوں کے اتحاد کے معاہدے کے تحت بھی یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔

زر تلافی کی مالیت کتنی

یونانی ماہرین کے ایک کمیشن کے مطابق ایتھنز کو برلن سے جس مالی ازالے کا مطالبہ کرنا چاہیے، اس کی مالیت 290 ارب یورو تک ہو سکتی ہے۔

لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ جرمن حکومت کی طرف سے انکار کے باوجود شماریاتی سطح پر یہ رقوم اتنی زیادہ ہیں کہ اگر برلن حکومت چاہتی بھی تو ادائیگی تقریباﹰ ناقابل تصور ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ برس جرمنی کے سالانہ وفاقی بجٹ کی کل مالیت تقریباﹰ 344 ارب یورو تھی اور اگر یونان کی خواہش کو سامنے رکھا جائے تو 290 ارب یورو کے مالی ازالے کے ممکنہ مطالبے کا مطب ہو گا جرمنی کے سالانہ وفاقی بجٹ کی کل مالیت کا تقریباﹰ 85 فیصد۔

م م / ا ا / ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز

DW.COM