یونان میں پاپادیموس کی بطور وزیر اعظم نامزدگی | حالات حاضرہ | DW | 10.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان میں پاپادیموس کی بطور وزیر اعظم نامزدگی

یورپی یونین کے رکن اور شدید نوعیت کے مالی بحران کے شکار ملک یونان میں لوکاس پاپادیموس کو آج جمعرات کو بالآخر یورو زون کی اس ریاست کا عبوری وزیر اعظم نامزد کر دیا گیا۔

default

64 سالہ پاپادیموس یونانی مرکزی بینک کے سابق گورنر اور یورپی مرکزی بینک کے سابق نائب صدر ہیں۔ آج جمعرات کو ایتھنز میں صدر کارولوس پاپولیاس کی طرف سے پاپادیموس کے عبوری قومی حکومت کا سربراہ نامزد کیے جانے کے ساتھ ہی یونان میں اس مسلسل سیاسی بے یقینی کا کسی حد تک خاتمہ ہو گیا ہے، جو گزشتہ کئی دنوں سے جاری تھی۔

یونان کے ریاستی طور پر دیوالیہ ہو جانے سے بچنے کے لیے یورپی یونین کے ایتھنز کے لیے بیل آؤٹ پروگرام پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ لیکن یہی عمل درآمد اس وقت قطعی غیر یقینی ہو گیا تھا جب سربراہ حکومت کے طور پر اب تک فرائض انجام دینے والے جارج پاپاندریو نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ ایک عبوری حکومت کے قیام کو ممکن بناتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے علیحدہ ہونے پر تیار ہیں۔

پھر حکمران سوشلسٹ پارٹی اور اپوزیشن جماعت نیو ڈیموکریسی کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والے انتہائی پیچیدہ مذاکرات کا وہ سلسلہ شروع ہوا، جو آج صدر کی طرف سے پاپادیموس کی وزیر اعظم کے طور پر نامزدگی کے ساتھ بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔

بہت کامیاب ماہر اقتصادیات سمجھے جانے والے لوکاس پاپادیموس نے اپنی نامزدگی کے بعد اولین بیان میں کہا ہے کہ یونان اس وقت بہت مشکل دوراہے پر کھڑا ہے، معیشت کو بہت ہی کٹھن حالات کا سامنا ہے اور موجودہ مسائل کے حل کے لیے پوری یونانی قوم کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔

لوکاس پاپادیموس کی نامزدگی کے ساتھ ہی یونانی سٹاک مارکیٹوں میں فوری بہتری کی امیدوں کے باعث کافی گرم بازاری دیکھنے میں آئی۔ یونان کی یورو زون میں شمولیت کی راہ کئی سال پہلے پاپادیموس نے ہی ہموار کی تھی۔ اب انہیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ یونان یورو زون کا حصہ رہے اور اپنے جملہ مالیاتی مسائل بھی حل کرے۔

اٹلی میں برلسکونی کے بعد کا دور

یونان کے بعد یورو زون کی جس ریاست کو اس وقت سب سے شدید مالی مسائل کا سامنا ہے، وہ اٹلی ہے۔ اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی کا عنقریب مستعفی ہو جانا اب ایک طے شدہ بات ہے۔ روم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس وقت بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں اور عالمی برادری کی نظریں اس طرف لگی ہوئی ہیں کہ برلسکونی دور کے بعد کا اٹلی کیسا ہو گا اور وہاں انتہائی ضروری اقتصادی اصلاحات پر جلد از جلد عمل درآمد کے لیے اس وقت کی جانے والی تیاریاں کتنی تسلی بخش ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارد نے سیاسی طور پر واضح صورت حال کا مطالبہ کرتے ہوئے آج کہا کہ اٹلی میں غیر یقینی سیاسی حالات عالمی منڈیوں میں مسلسل تشویش کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی دوران یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ قرضوں کے حصول کے لیے اٹلی کی طرف سے ادا کی جانے والی بہت زیادہ قیمت ملکی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔

Flash-Galerie Silvio Berlusconi

برلسکونی کا عنقریب مستعفی ہو جانا طے ہو چکا ہے

آئندہ دنوں میں برلسکونی کے استعفے کے بعد ان کی جانشینی کے لیے یورپی یونین کے اٹلی سے تعلق رکھنے والے سابق کمشنر اور 68 سالہ سیاستدان ماریو مونٹی ممکنہ امیدواروں میں سے سب سے نمایاں ہیں۔

یوروزون میں کساد بازاری کا خطرہ

یونان اور اٹلی کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں یورپی یونین نے آج جمعرات کو خبردار کیا کہ سترہ ملکی یورو زون کو درپیش قرضوں کے موجودہ بحران کی وجہ سے خطرہ ہے کہ یہ خطہ اگلے برس ایک ’گہری اور طویل‘ اقتصادی کساد بازاری کا شکار ہو سکتا ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق اگلے برس پورے یورو زون میں اقتصادی ترقی کی شرح زیادہ سے زیادہ بھی صرف 0.5 فیصد رہے گی حالانکہ اس سال موسم بہار تک حالات ایسے تھے کہ ترقی کی یہی شرح 1.8 فیصد تک رہنے کی توقع کی جا رہی تھی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

اشتہار