یونان: مہاجرین کے لیے نقلی کاغذات، نو پاکستانی گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 07.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان: مہاجرین کے لیے نقلی کاغذات، نو پاکستانی گرفتار

یونانی پولیس نے چھاپے مارتے ہوئے ایک ایسے بارہ رکنی گروہ کو پکڑ لیا ہے، جو لوگوں کو نقلی دستاویزات کے ذریعے وسطی یورپ تک اسمگل کرتا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں نو پاکستانی بھی شامل ہیں۔

یونانی پولیس نے اپنی اس تازہ کارروائی کو انسانی اسمگلروں کے خلاف اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک مصری، ایک عراقی، ایک شامی اور نو پاکستانی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ان افراد کو گرفتار کرنے کے لیے مجموعی طور پر تین فلیٹوں پر چھاپے مارے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ان فلیٹوں میں ’’جعلی دستاویزات تیار کرنے کے لیے مکمل سامان اور مشینیں‘‘ موجود تھیں، جنہیں پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

رواں برس یورپ میں تقریباﹰ چھ لاکھ تیس ہزار افراد غیرقانونی طریقے سے داخل ہوئے ہیں جبکہ یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد تقریبا چار لاکھ ہے۔ نہ صرف یورپ بلکہ یورپی یونین بھی پریشان ہے کہ انسانی اسمگلروں سے کیسے نمٹا جائے۔

پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’جس گینگ کو پکڑا گیا ہے، اس کا شمار یورپ میں تارکین وطن کو اسمگل کرنے والے اہم ترین گروہوں میں ہوتا ہے۔‘‘ بیان کے مطابق یہ گروپ لوگوں کو غیرقانونی طریقے سے یونان لاتا تھا اور یہاں سے پھر ان افراد کو وسطی یورپ کے ملکوں تک پہنچایا جاتا تھا۔

پولیس کے مطابق ان ملزمان کو ایتھنز پراسیکیوٹرز کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے مزید ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ یہ گینگ تارکین وطن سے تقریبا ساڑھے تین لاکھ روپے وصول کرتے تھے اور پھر ان کو ہوائی اڈوں یا کشتیوں کے ذریعے اٹلی یا پھر کسی دوسرے ملک تک پہنچا دیتے تھے۔ اس نیٹ ورک کا ایک حصہ ترک ساحل کے قریب جزیرہ کوس کے قریب فعال ہے، جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن پہنچتے ہیں۔ ان تارکین وطن کو وہاں سے کشتیوں کے ذریعے بھی یونان اسمگل کیا جاتا ہے۔

یونان پہنچنے کے بعد ان تارکین وطن کو نقلی پاسپورٹ اور پرمٹ وغیرہ دیے جاتے تھے۔ یونان میں ایسے تارکین وطن کو فلیٹوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ پولیس کی نظر میں نہ آئیں۔ ابھی پیر کے روز یونان پولیس نے دارالحکومت میں ایک ایسے افغان شہری کو پکڑا تھا، جس کے فلیٹ میں بارہ بچوں سمیت کل چونتیس تارکین وطن موجود تھے۔