یونان: سیاحت پر کورونا بحران کے بڑھتے سائے | معاشرہ | DW | 07.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کورونا اور سیاحت

یونان: سیاحت پر کورونا بحران کے بڑھتے سائے

یونان میں ہوٹلوں کے مالکان کو خوف ہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے دوران سیاحوں کی آمد مکمل طور پر بند ہو جائے گی۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبے اس یورپی ملک کو ایک اور سخت امتحان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یونانی جزیرے کریٹ میں ایک ہوٹل کے مالک یورگوس کاتیکاس کا کہنا ہے کہ موسم گرما کے آغاز تک  عموماﹰ تمام ہوٹل مکمل طور پر بک ہو جاتے تھے اور موسم بہار سے ہی غیر ملکی سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی تھی، لیکن اس مرتبہ صورت حال بہت مختلف ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ میں وقتی ٹھہراؤ کے بعد متعدد ممالک کی جانب سے عائد سفری پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ یونانی حکام بھی بحران زدہ سیاحت کی صنعت کو بحال کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہوٹلوں اور ریستورانوں کو جزوی طور پر سیاحوں کے لیے کھولنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ تاہم یہ اجازت حفاظتی تدابیر کے ساتھ مشروط ہوگی، جس میں حفظان صحت کو یقنی بناتے ہوئے، چہرے پر ماسک کا استعمال اور انےانسانوں کے درمیان  فاصلہ برقرار رکھنے جیسے ضوابط لازمی ہیں۔


 کاتیکاس کے مطابق احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے لیے نئے ملازمین کی خدمات حاصل کرنا پڑ سکتی ہے اور وہ یہ اضافی خرچہ برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کے بقول، ’’مثال کے طور پر، حفظان صحت کی وجوہات کی بنا پر مہمانوں کے لیے ناشتہ کمرے میں لانے کے لیے اضافی ملازمین درکار ہونگے اور میں اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘
سیاحت یونانی معیشت کا اہم جزو
رواں دہائی کے آغاز میں یونان کو درپیش انتہائی شدید نوعیت کے مالیاتی بحران کے باعث بھی سیاحت کی صنعت کو شديد مشکلات کا سامنا تھا۔ یونان کی مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کے چوبیس فیصد حصے کے ساتھ سیاحت اقتصادی طور پر ملک کی  ريڑھ کی ہڈی کی حيثیت رکھتا ہے اور یہ صنعت یونانی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ جزیرہ کریٹ یا پھر جزیرہ رودوش جیسے سیاحتی مقامات کی معیشت کا 80 فیصد دارومدار غیر ملکی سیاحوں پر رہتا ہے۔ کریٹ میں ہوٹلوں کی تنظیم کے جنرل سکریٹری اینجلوپؤلوس  کے مطابق گرمیوں کے اس سیزن میں نقصان کی وجہ سے نو لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔


کورونا کی وبا میں محفوظ سیاحت، مگر کیسے؟
یورپی یونین موجودہ سفری پابندیاں ختم کرنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تلاش کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ تاہم اس دوران آسٹریا ایک غیر معمولی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ آسٹریا کی وزیر سیاحت ایلیزابیتھ کوسٹنگر کی تجویز کے مطابق یورپ میں موسم گرما کے دوران سفری پابندی رہنے کے باوجود، یونین کے تمام رکن ممالک دو طرفہ طور پر باہمی اتفاق کے تحت غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول سکتے ہیں۔ آسٹریا کی اس تجویز  کی حمایت کرتے ہوئے اینجلوپؤلوس کا کہنا ہے کہ پہلے ہی قیمتی وقت ضائع ہوچکا ہے اور یورپی یونین کے تمام ممالک کے مابین ایک معاہدے میں مزید وقت درکار ہوگا۔ ’’لہٰذا دو طرفہ معاہدہ سب سے تیز اور محفوظ ترین طریقہ ہے۔‘‘ آسٹریا کی یہ تجویز صفائی اور حفظان صحت کے پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد کے ساتھ مشروط ہے۔
ع آ / ک م (یانیس پاپادمتروف)

DW.COM

Audios and videos on the topic