یونان بھاگ جانے والے باغی ترک فوجی افسروں کے خلاف مقدمہ شروع | حالات حاضرہ | DW | 21.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یونان بھاگ جانے والے باغی ترک فوجی افسروں کے خلاف مقدمہ شروع

ترکی میں گزشتہ ہفتے کی ناکام بغاوت کے فوری بعد بھاگ کر یونان چلے جانے والے آٹھ باغی ترک فوجی افسروں کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ ان فوجی افسروں کو یونان میں غیر قانونی داخلے کے الزامات کا سامنا ہے۔

Türkei Putschversuch Militärhubschrauber in Alexandroupolis Flughafen

باغی ترک فوجی اہلکار اس ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر شمالی یونان پہنچے تھے

یونان کے شمالی شہر الیگزانڈروپولی (Alexandroupoli) سے جمعرات اکیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق باغی ترک فوجیوں کے خلاف ایک یونانی عدالت میں مقدمے کی سماعت کا آغاز تو ہو گیا ہے تاہم یہ خطرہ ابھی تک موجود ہے کہ ان ترک شہریوں کا فرار ہو کر یونان پہنچنا دونوں ہمسایہ ملکوں کے باہمی تعلقات میں نئی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔

ان ترک فوجی اہلکاروں کی یونان آمد اس وجہ سے بھی انقرہ کے لیے بہت اشتعال انگیز تھی کہ ایک تو ترکی اور یونان کے آپس کے تعلقات قبرص کے تنازعے کی وجہ سے روایتی طور پر کشیدہ ہی رہے ہیں اور پھر ترکی اگر یورپی یونین سے باہر کی رہاست ہے تو یونان یونین کا رکن ملک ہے جبکہ یہ دونوں ہی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن بھی ہیں۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ترک مسلح افواج کے انقرہ حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کرنے والے فوجی دھڑے میں شامل یہ اہلکار اپنی اور اپنے ساتھیوں کی کوشش کے ناکام رہ جانے کے بعد ایکی فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر شمالی یونانی شہر الیگزانڈروپولی پہنچے تھے۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے یونانی حکام کو ایمرجنسی سگنل دیا تھا، جس پر اس ہیلی کاپٹر اور اس میں سوار افراد کو ہنگامی طور پر اس شہر کے ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

ان ترک شہریوں نے یونانی سرزمین پر اترتے ہی وہاں سیاسی پناہ کی درخواست کر دی تھی اور تب حکام کو پتہ چلا تھا کہ وہ سب ترک فوجی اہلکار تھے۔ ان میں سے دو کمانڈر، چار کپتان اور باقی دو سارجنٹ تھے جبکہ آٹھ میں سے سات اپنی فوجی وردیاں پہنے ہوئے تھے۔

Türkei Istanbul Beisetzung Opfer Putschversuch

فوجی بغاوت کی اس ناکام کوشش کے دوران تین سو سے زائد باغی، حکومت نواز فوجی، پولیس اہلکار اور عام شہری مارے گئے تھے

اس پر یونانی حکام نے انہیں حراست میں لے کر ان کے خلاف ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا تھا اور آج اسی مقدمے کے سلسلے میں انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔

فوری طور پر ایتھنز میں ملکی حکام ان ترک شہریوں کو واپس ترکی اس لیے نہیں بھیج سکتے کہ وہ یونان میں سیاسی پناہ کی درخواست کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو، جو ابھی ترکی ہی میں ہیں، جان کا خطرہ ہے۔

یونان میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں اگر عدالت نے انہیں قصور وار قرار دے دیا، تو ان باغی ترک فوجی اہلکاروں میں سے ہر ایک کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔

تاہم آیا انہیں واپس ترکی بھیج دیا جائے گا یا یونان میں سیاسی پناہ دے دی جائے گی، اس بارے میں فیصلہ جلد از جلد بھی اگست کے اوائل میں متوقع ہے، جب تارکین وطن سے متعلق یونانی محکمے کے حکام ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ کریں گے۔

یہ باغی اہلکار جس فوجی ہیلی کاپٹر پر یونان پہنچے تھے، وہ یونانی حکام پہلے ہی ترکی کو واپس لوٹا چکے ہیں۔ انقرہ حکومت کا یونان سے مطالبہ ہے کہ ان فوجی اہلکاروں کو بھی واپس ترکی کے حوالے کیا جائے۔ یونان میں ترک سفیر نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر ان ترک شہریوں کو واپس انقرہ کے حوالے نہ کیا گیا، تو یہ ترکی اور یونان کے باہمی تعلقات کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔

DW.COM