یونانی جزیرے پر مہاجر کیمپ میں نوجوان افغان خاتون جل کر ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 05.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یونانی جزیرے پر مہاجر کیمپ میں نوجوان افغان خاتون جل کر ہلاک

یونانی جزیرے لیسبوس کے ایک مہاجر کیمپ میں ایک ستائیس سالہ افغان خاتون جل کر ہلاک ہو گئی۔ یہ خاتون تین بچوں کی ماں تھی اور اس کیمپ میں اس کنٹینر میں اچانک آگ لگی گئی تھی، جس میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔

یونانی جزیرے لیسبوس پر گنجائش سے کئی گنا زیادہ تارکین وطن کو رکھا جا رہا ہے

یونانی جزیرے لیسبوس پر گنجائش سے کئی گنا زیادہ تارکین وطن کو رکھا جا رہا ہے

یونانی دارالحکومت ایتھنز سے جمعرات پانچ دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے آج بتایا کہ جزیرے لیسبوس کی 'میتیلین‘ نامی مرکزی بندرگاہ کے قریب کاراتیپے کے مہاجر کیمپ میں اس خاتون کی ایک کنٹینر میں بنی رہائش گاہ میں یہ آگ رات دو بجے لگی تھی۔

آتش زدگی کے وقت اس کنٹینر میں اس خاتون کے علاوہ اس کا شوہر اور تین بچے بھی موجود تھے۔

پولیس نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد اس خاتون کا شوہر پہلے اپنے تین بچوں کو آگ کے شعلوں سے بچا کر جلتے ہوئے کنٹینر سے باہر نکال لینے میں کامیاب ہو گیا۔

پھر جب اس نے اپنی بیوی کو بھی بچانے کی کوشش کی، تو اس دوران کنٹینر میں بھر جانے والے زہریلے دھویئں کے سبب وہ خود بھی بے ہوش ہو گیا تھا۔

یونانی پبلک براڈکاسٹر ای آر ٹی کی رپورٹوں کے مطابق یہ آگ بظاہر اس وقت لگی، جب کنٹینر کو سردیوں میں گرم رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی گیس کی ایک بڑی بوتل دھماکے سے پھٹ گئی۔

لیسبوس کے یونانی جزیرے پر کاراتیپے کے مہاجر کیمپ میں مجموعی طور پر پناہ کے متلاشی 1324 غیر ملکی رہتے ہیں۔ مقامی غیر حکومتی تنظیموں کے مطابق ان میں سے بہت سے تارکین وطن اور ان کے خاندانوں کو درپیش حالات انتہائی پریشان کن ہیں۔

یورپی وفد ایتھنز میں

اے ایف پی نے بتایا کہ کاراتیپے مہاجر کیمپ میں افغان تارکین وطن کے ایک خاندان کے رہائشی کنٹینر میں یہ آگ ایک ایسے وقت پر لگی، جب چند ہی گھنٹے بعد جمعرات کی صبح یورپی کمیشن کی دو اعلیٰ خواتین اہلکار یونانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایتھنز پہنچنے والی تھیں۔

Griechenland Flüchtlingslager auf Lesbos

لیسبوس کے یونانی جزیرے پر بنائے گئے موریا مہاجر کیمپ کا ایک منظر

یہ وفد یورپی کمیشن کی مہاجرین اور تارکین وطن سے متعلقہ امور کی دو سرکردہ خاتون نمائندوں مارگاریٹیس شیناس اور اِلوا جوہانسن پر مشتمل تھا، جسے ایتھنز میں یونانی حکومتی نمائندوں کے ساتھ یورپی یونین کے رکن اس ملک میں تارکین وطن کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحرانی حالات کے بارے میں بات چیت کرنا تھی۔

گنجائش سے چھ گنا زیادہ تارکین وطن

اس یورپی وفد میں شامل اِلوا جوہانسن نے یونانی وزیر اعظم متسوتاکیس کے ساتھ ایتھنز میں آج اپنی ملاقات کے بعد کہا، ''صورت حال ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی متقاضی ہے اور ہمیں لازمی طور پر اور بلاتاخیر کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہو گا۔‘‘

یونان کے بہت سے میں سے صرف چار جزائر پر قائم مہاجر کیمپوں میں مجموعی طور پر پناہ کے متلاشی 37 ہزار تارکین وطن کو رکھا جا رہا ہے جبکہ وہاں صرف چھ ہزار تین سو تارکین وطن کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ یوں ان چار یونانی جزائر پر گنجائش سے چھ گنا زیادہ مہاجرین مقیم ہیں اور ان کی بہت بڑی اکثریت کو ناگفتہ بہ حالات کا سامنا ہے۔

م م / ش ح (اے ایف پی)

DW.COM