یور آنر کیوں کہا،  چیف جسٹس نے سماعت ہی ملتوی کر دی | حالات حاضرہ | DW | 25.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یور آنر کیوں کہا،  چیف جسٹس نے سماعت ہی ملتوی کر دی

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عرضی گزار سے کہا کہ چونکہ بینچ کو غلط لقب سے مخاطب کیا گيا اس لیے سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوڈے کی سربراہی والی ایک بینچ نے ’’غیر مناسب طریقے‘‘ سے عدالت عظمٰی کو مخاطب کرنے مدعی کو متنبہ کیا اور کہا کہ غیر مناسب القابات سےگریز کیا جائے۔ بینچ نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور  سماعت یہ کہہ کر ملتوی کر دی گئی کہ پہلے اچھی طرح سے تیاری کی جائے جس کے بعد سماعت ہوگی۔

معاملہ کیا تھا؟

اپنے کیس کی پیروی کرتے ہوئے ایک وکیل نے جب عدالت کو ’یور آنر‘ (عزت ماب) کے الفاظ سے مخاطب کیا تو چیف جسٹس نے کہا، ’’آپ ہمیں یور آنر جیسے غلط الفاظ سے مخاطب نہ کریں، کیونکہ یہ امریکا کی سپریم کورٹ نہیں ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’جب آپ ہمیں یور آنر کہتے ہیں تو ایسا لگتا ہے  کہ آپ کے ذہن میں امریکی سپریم کورٹ ہے۔‘‘ جج صاحبان کا کہنا تھا کہ یور آنر جیسے الفاظ امریکی سپریم کورٹ میں اور بھارت کی مجسٹریٹ سطح کی عدالتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس پر مذکورہ وکیل نے فوری طور معذرت پیش کی اور کہا کہ پھر وہ عدالت عظمی کو ’یور لارڈ شپ‘ کہہ کر پکاریں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا، ’’کچھ بھی ہو، لیکن غیر مناسب القابات سے قطعی مخاطب نہ کریں۔‘‘

 اس کے بعد بینچ نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ آئندہ سپریم کورٹ میں حاضر ہونے سے پہلے پوری طرح تیاری کر کے آئیں اور اس کے ساتھ سماعت چار ہفتوں کی لیے ملتوی کر دی گئی۔  

وکیل شری کانت نے بھارت میں برسوں سے پڑے لاکھوں مقدمات، ججوں کی کمی اور عدالتوں کے ناکارہ انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کی تھی اور اسی بارے میں یہ سماعت تھی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس بارے میں خصوصی ہدایات جاری کرے تاکہ عدالتوں کا نظام بہتر ہو سکے اور برسوں سے التوا کے شکار لاکھوں مقدمات پر فیصلے ہوسکیں۔ مقدمے کی پیری کے لیے وہ خود ہی پیش ہوئے تھے۔

گزشتہ برس بھی چیف جسٹس ایس کے بوڈے نے ایک وکیل کے یور آنر کہنے کا سخت نوٹس لیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت کی سپریم کورٹ میں یہ طریقہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس معاملے میں جج نے اسی وجہ سے سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی تھی۔  

نوآبادیاتی دور کی روایت سے نجات کی ناکام کوشش

بھارت میں برسوں سے یہ کوشش رہی ہے کہ برطانوی دور کی ان روایات سے نجات حاصل کی جائے جس میں ججز کو ’مائی لارڈ‘ یا پھر  ’یور لارڈ شپ‘ کہنے کا رواج رہا ہے۔ اسی وجہ سے سن 2006 میں بار کونسل آف انڈيا نے ایک قرار داد منظور کی تھی اور اس میں ان القابات کے بجائے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے لیے ’یور آنر‘ یا پھر ’آنر ایبل کورٹ‘ کہنے کی بات کہی گئی تھی۔

اس اصول پر گزشتہ کئی برسوں سے عمل بھی ہوتا رہا تھا اور ماضی میں کئی جج نے اس بات پر اعتراض بھی کیا تھا کہ انہیں مائی لارڈ کہہ کر نہ پکارا جائے۔ تاہم بار کونسل نے بعد میں  اپنے انہی اصولوں سے انحراف کیا۔  

گزشتہ روز بار کونسل آف انڈيا نے ایک اور وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سن 2019 میں اس نے اعلٰی عدالتوں کے مراتب اور ان کے وقار کی بجالی کے لیے یور آنر جیسے الفاظ سے مخاطب نہ کرنے کا ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔

اس تازہ بیان کے مطابق وکلا سے کہا گيا ہے کہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کو ’مائی لارڈ‘ یا پھر ’یور لارڈ شپ‘ کے القابات سے مخطاب کریں۔ یعنی ایک بار پھر اسی پرانی روایت پر عمل کرنے کو کہا گيا ہے جس سے پہلے نجات پانے کی کوششیں ہوچکی ہیں اورججوں کی بھی یہی مرضی ہے۔

DW.COM