یورپ کو افغان مہاجرین کے باعث ممکنہ بحران سے خوف | معاشرہ | DW | 21.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

یورپ کو افغان مہاجرین کے باعث ممکنہ بحران سے خوف

ترکی اور ایران کی سرحد پر مہاجرین کو روکنے کے لیے تعمیر کردہ دیوار آسمان سے کسی سانپ کے مانند دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ نامکمل دیوار بھی مہاجرین کو نہ روک پائی تو یورپ مہاجرین کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے کتنا تیار ہے؟

ایشیا سے یورپ کی جانب مہاجرت کے لیے استعمال ہونے والے مصروف ترین راستے پر گزشتہ برسوں کے دوران مہاجرین اور پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی تھی۔

لیکن افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد یورپی ممالک اور ترکی کو خدشہ ہے کہ مہاجرین ایک مرتبہ پھر یورپ کا رخ کریں گے۔

یورپ نہ آئیں، پڑوسی ممالک میں جائیں

سن 2015 میں شامی خانہ جنگی کے باعث یورپ میں لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین آئے تھے جس کے باعث بحرانی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔ یورپی رہنما اب کی بار ایسی صورت حال سے کسی بھی قیمت پر بچنا چاہتے ہیں۔

دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں نیٹو افواج اور اداروں کی مدد کرنے والے افغانوں کے علاوہ یورپ آنے کی خواہش رکھنے والے دیگر شہریوں کے لیے یورپ کا پیغام واضح ہے، ’اگر آپ کو مجبورا ہجرت کرنا پڑے تو اپنے پڑوسی ملکوں میں جائیں، ہماری طرف مت آئیں‘۔

رواں ہفتے یورپی وزرائے داخلہ کی ایک میٹنگ میں یورپی یونین کے حکام نے ایک خفیہ میمو میں بتایا کہ سن 2015 کے بحران سے انہوں نے یہ سبق سیکھا ہے کہ افغانوں کو ان کے حال پر نہ چھوڑا جائے، کیوں کہ اگر انہیں فوری طور پر امداد فراہم نہ کی گئی تو وہ مہاجرت کی راہ اختیار کرنا شروع کر دیں گے۔

افغانستان کے پڑوسی ملکوں میں ’ملک بدری کے مراکز‘

یورپ میں پہلے ہی سے افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ طالبان کے قبضے سے قبل یورپی ممالک پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کو ملک بدر کر کے واپس افغانستان بھی بھیج رہے تھے۔

مہاجرین کے بارے میں سخت رویہ رکھنے والے یورپی ملک آسٹریا نے موجودہ صورت حال میں یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک میں ’ملک بدری کے مراکز‘ بنائے جائیں۔

آسٹرین حکام کے مطابق یورپ میں موجود اور نئے ممکنہ پناہ گزینوں کو سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دیے جانے کے بعد اگر افغانستان بھیجنا ممکن نہ رہے تو انہیں انہیں افغانستان کے پڑوسی ممالک بھیج دیا جائے۔

آسٹریا کے وزیر داخلہ کارل نیہامر نے کئی دیگر یورپی ممالک کی سوچ کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ کوشش یہ ہونا چاہیے کہ افغان شہریوں کو یورپ آنے سے روکا جائے اور انہیں خطے ہی میں رکھا جائے۔

ترکی دیگر یورپی ممالک کیا پیغام دے رہے ہیں؟

جرمنی نے سن 2015 میں مہاجرین کو خوش آمدید کہا تھا اور یورپ میں شامی مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد کو جرمنی ہی میں پناہ ملی تھی۔ اس مرتبہ تاہم جرمنی کا رویہ بھی سخت دکھائی دے رہا ہے۔ دائیں بازو کی عوامیت پسند جرمن سیاسی جماعت اے ایف ڈی تو افغان مہاجرین کو پناہ دینے کے خلاف ہے ہی لیکن سی ڈی یو کے رہنما اور چانسلر میرکل کے ممکنہ جانشین آرمین لاشیٹ نے بھی گزشتہ ہفتے خبردار کیا کہ سن 2015 کی طرح کا بحران نہیں دہرایا جا سکتا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے پیر کے روز کہا کہ افغانستان کی صورتحال کا ’بوجھ صرف یورپ کے کندھوں پر نہیں لادا‘ جانا چاہیے اور یورپ کو غیر منظم مہاجرت کا راستہ روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کرنا چاہییں۔

یورپی یونین کی بیرونی سرحد پر واقع ممالک اٹلی اور یونان مہاجرین کے گزشتہ بحران کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ یونان نے اس مرتبہ واضح کیا ہے کہ وہ ’یورپ کی جانب غیر منظم مہاجرت کا گیٹ وے‘ بننے کے لیے تیار نہیں اور ان کی رائے میں ترکی مہاجرین کے لیے ’محفوظ ملک‘ ہے۔

ترک صدر ایسے بیانات پر ناخوش ہیں۔ ترکی میں پہلے ہی ساڑھے تین ملین سے زیادہ شامی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پہلی مرتبہ جمعے کے روز افغان مہاجرین کے حوالے سے اپنے ایرانی ہم منصب اور یونانی وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

افغان مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد پاکستان اور ایران میں

گزشتہ چار دہائیوں سے جنگوں کے سامنا کرنے والے افغان باشندوں کی زیادہ تر تعداد پاکستان اور ایران میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق قریب تین ملین افغان مہاجرین میں سے 90 فیصد پاکستان اور ایران میں ہیں۔

اس کے مقابلے میں گزشتہ دس برسوں کے دوران 27 رکنی یورپی یونین میں ساڑھے چھ لاکھ کے قریب افغان مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر جرمنی، ہنگری، سویڈن اور یونان میں آباد ہیں۔

یورپی رہنماؤں کی کوشش ہے کہ اب کی بار بھی افغان مہاجرین پڑوسی ممالک ہی میں پناہ لیں اور اس ضمن میں وہ پڑوسی ممالک کو مالی معاونت کے ذریعے افغانوں کو پناہ دینے پر رضامند کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستانی حکومت اپنے حالیہ بیانات میں واضح کر چکی ہے کہ وہ مزید افغان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ اسلام آباد کے مطابق ملکی سکیورٹی اور معاشی صورت حال کے پیش نظر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

پاکستان کو امید ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی صورت حال بہتر رہے گی اور افغان شہری دیگر ممالک کا رخ کرنے کی بجائے اپنے ملک میں رہ پائیں گے۔ تاہم مہاجرین کی آمد کے خدشے کے پیش نظر ہفتے کے روز سے پاکستان نے افغانستان سے متصل سرحد کے قریب ہی مہاجر کیمپ بھی بنانے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔