یورپ میں فٹ بال ریفریوں کے خلاف تشدد میں اضافہ | کھیل | DW | 26.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

یورپ میں فٹ بال ریفریوں کے خلاف تشدد میں اضافہ

فٹ بال کے شوقیہ یا غیر پیشہ ور ریفریوں کے خلاف پرتشدد واقعات صرف جرمنی کا مسئلہ نہیں ہے۔ میچ کے دوران ریفریوں پر حملے ہالینڈ اور انگلینڈ میں بھی کیے جاتے ہیں۔

فٹ بال کی تاریخ میں دو دسمبر سن 2012 تاریک لمحات کا حامل تھا۔ اُس دن رچرد نوئن ہوئزن نوجوانوں کے میچ میں ریفری کے ایک معاون تھے اور لائن مین کے طور انہوں نے ایک کھلاڑی کو آف سائیڈ قرار دے دیا۔ اس فیصلے پرکھلاڑیوں اور شائقین میں شدید غم و غصہ پیدا ہو گیا۔

ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم کے نواح میں کھیلا جانے والا یہ میچ جب ختم ہوا تو پانچ چھ کھلاڑیوں اور ان کے والدین نے لائن مین نوئن ہوئزن پر حملہ کر دیا۔ اس کے بدن سمیت سر پر زوردار ٹھوکریں ماری گئیں۔ اس حملے کے اگلے دن اکتالیس برس کے رچرڈ نوئن ہوئزن ہسپتال میں سر پر لگنے والی چوٹوں کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ حملہ کرنے والے نوعمر کھلاڑیوں اور ان کے والدین کو عدالت نے قتل کا مجرم قرار دے کر جیل بھیج دیا تھا۔

رچرڈ نوئن ہوئزن کی ناگہانی ہلاکت کے بعد سخت انتظامی فیصلوں کے تناظر میں شوقیہ فٹ بال کھلاڑیوں کے میچوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔ ہالینڈ میں سن 2011/12 میں ایسے واقعات کی تعداد 485 تھی جو سن 2016/ 17  کے سیزن میں کم ہو کر 257 ہو گئی ہے۔

Fußball Landesliga Amateursport (imago/Pressefoto Baumann)

یورپ بھر میں فٹ بال میچ کے ریفریوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

ہالینڈ میں فٹ بال کے نگران ادارے کے مطابق ایک سال کے دوران قومی سطح سے لے کر سب سے کم درجے تک کے پچھتر ہزار میچ کھیلے جاتے ہیں۔ فیڈریشن کے مطابق ہر سال کئی میچوں کے دوران ناپسندیدہ واقعات سرزد ہوتے ہیں اور یہ کھلاڑیوں کے غم و غصے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ڈچ فٹ بال تنظیم نے اس نان اسپورٹنگ رویے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ڈچ فٹ بال فیڈ ریشن کے مطابق ہالینڈ میں چوبیس ہزار ریفری ہیں اور ان کی سلامتی اور مدد کے لیے ایک خاص نمبر وقف کر دیا گیا ہے۔ ریفریوں کو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اس ٹیلی فون نمبر پر دن یا رات کے کسی بھی وقت پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خصوصی نمبر وقف کرنے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ ریفریوں کے خاندانوں کو بھی ناراض کھلاڑیوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہونے کا سلسلہ شروع  ہے۔

Fussball l Schiedsrichter - Gelbe Karte (picture alliance/ImageBROKER/M. Weber)

انگلینڈ میں فٹ بال ریفریرں کو کھلاڑیوں اور ٹیم اہلکاروں کے غم و غصے کا بہت زیادہ سامنا رہتا ہے

جرمنی میں سن 2010 میں اٹھتر ہزار سے زائد ریفری تھے اور رواں برس ان کی تعداد کم ہو کر تقریباً ستاون ہزار ہو گئی ہے۔ جرمنی میں بھی فٹ بال کے ریفریوں کو شائقین کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں اور دوسرے اہلکاروں کی ناراضی کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں خیال کیا گیا ہے کہ ایسے واقعات سے ریفریوں کو نفسیاتی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں جرمن شہروں کولون اور برلن میں شوقیہ ریفریوں کو ایسے ناپسندیدہ واقعات برداشت کرنے پڑے ہیں۔

یورپ میں ہالینڈ کے مقابلے میں انگلینڈ کی صورت حال بہت زیادہ تشویش ناک ہے۔ سن 2018 کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق ہر دوسرے میچ میں ریفریوں کو کھلاڑیوں یا ٹیم اہلکاروں کے غم و غصے کا سامنا برا بھلا کہنے اور گالیوں کی صورت میں کرنا پڑتا ہے۔ انگلینڈ میں یہ تناسب ساٹھ فیصد ہے۔ فرانس میں ریفریوں کو برا بھلا کہنے کی اوسط ساڑھے چودہ فیصد ہے۔

اشٹفان نیسٹلر (ع ح ⁄ ع ا)

DW.COM