یورپ میں سیاسی پناہ کا حصول ناممکن بنانے کی آسٹرین تجویز | مہاجرین کا بحران | DW | 15.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

یورپ میں سیاسی پناہ کا حصول ناممکن بنانے کی آسٹرین تجویز

آسٹریا کے صدر الیگزانڈر فان ڈیئر بیلین نے ویانا حکومت کے تجویز کردہ اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس پر عمل کی صورت میں تارکین وطن کے لیے یورپ میں سیاسی پناہ کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔

مہاجرین کے لیے سیاسی پناہ کا حصول عملی طور پر ناممکن بنا دینے کی ویانا حکومت کی تجویز پر خود آسٹریا ہی کے صدر نے شدید تنقید کی ہے۔ آج پندرہ جولائی بروز اتوار ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو میں صدر الیگزانڈر فان ڈیئر بیلین کا کہنا تھا، ’’جو بھی ہمارے ملک میں آئے اور سیاسی پناہ کے حصول کی خاطر درخواست دینا چاہے، اسے یہ حق دیا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جنیوا کنوینشن کے تحت تعاقب اور ظلم کے شکار افراد کا یہ حق ہے کہ وہ سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا سکیں۔

آسٹریا میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت ہے اور موجودہ ششماہی کے لیے یورپی یونین کی صدارت بھی اسی یورپی ملک کو سونپی جا چکی ہے۔ اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹریا میں برسراقتدار مہاجر مخالف جماعتیں یورپ میں اپنی ہم خیال دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مہاجرت اور سیاسی پناہ کے بارے میں اپنے تیار کردہ سخت ترین لیکن متنازعہ ضوابط یورپی یونین کی سطح پر متعارف کرنے کی کوششوں میں ہیں۔

آسٹریا کے صدر بیلین نے یہ اعتراف کیا کہ غیر قانونی مہاجرت ایک بڑا مسئلہ ہے تاہم ان کے مطابق، ’’اس وقت سیاسی پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔ صورت حال قابو میں ہے۔‘‘

گزشتہ ماہ برسلز میں ہونے والی یورپی یونین کے سربراہان کی سمٹ میں یورپی یونین کی حدود سے باہر تارکین وطن کے لیے خصوصی مراکز کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا۔ صدر بیلین نے شمالی افریقی ممالک میں ان مجوزہ مراکز کے بارے میں کہا کہ اس منصوبے میں بھی کئی باتوں کی وضاحت موجود نہیں ہے۔ ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی ملک نے ایسے مراکز کی میزبانی کی حامی نہیں بھری۔ یقینی طور پر ہمیں اصل توجہ اس بات دینی چاہیے کہ لوگ ہجرت پر مجبور کن وجوہات کی بنا پر ہو رہے ہیں۔‘‘

آسٹریا کے وزیر داخلہ ہیربرٹ کیکل اور وزیر دفاع ماریو کوناسیک نے تجویز پیش کی تھی کہ آسٹرین افواج یورپ کی بیرونی سرحدوں کے نگران یورپی ادارے فرنٹیکس کے شمالی افریقی ممالک میں جاری مشن میں شمولیت اختیار کریں۔ تاہم ملکی صدر کی رائے میں آسٹریا کی مسلح افواج اس مشن میں شمولیت کی اہلیت نہیں رکھتیں۔

بحیرہ روم میں مہاجرین کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے سرگرم امدادی تنظیموں کی امدادی سرگرمیوں کو ’مجرمانہ فعل‘ قرار دینے جانے کی کوششوں کے بارے میں صدر بیلین نے کہا، ’’دریائے ڈینوب میں ڈوبنے والے بچے کو بچانے والے کا استقبال ہم ایک زندگی بچانے پچانے والے ہیرو کی طرح کرتے ہیں، لیکن وہی شخص جب بحیرہ روم میں ایک بچے کو ڈوبنے سے بچاتا ہے تو اسے مجرم قرار دے کے عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘

آسٹرین صدر الیگزانڈر فان ڈیئر بیلین کا تعلق گرین پارٹی سے ہے اور وہ سن 2016 میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے امیدوار نوربیرٹ ہوفر کو شکست دے کر صدر بنے تھے۔

ش ح/ ع ت (اے ایف پی)

DW.COM