1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپ میں سالانہ ستائیس لاکھ انسانی اموات کا سبب چار صنعتیں

16 جون 2024

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو، الٹرا پروسیسڈ فوڈز، الکوحل اور معدنی ایندھن یورپ میں ہر سال لاکھوں انسانوں کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ اس ادارے نے حکومتوں سے ان صنعتوں سے متعلق سخت ضابطوں کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4gxMy
 تمباکو نوشی
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یورپ میں ہر سال 1.15ملین افراد تمباکو نوشی سے موت کا شکار ہو جاتے ہیںتصویر: Christin Klose/dpa/picture alliance

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں الکوحل، تمباکو، الٹرا پروسیسڈ فوڈز (یو پی ایف) اور معدنی ایندھن کو یورپ میں ہر سال ستائیس لاکھ انسانوں کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

’’ڈبلیو ایچ او کے یورپی خطے میں غیر متعدی امراض کے لیے تجارتی عوامل‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ اس رپورٹ میں اس عالمی ادارے نے ''صنعتوں کی طاقت کو لگام لگانے کے لیے سخت ضابطے بنانے‘‘ اور صحت عامہ کو فروغ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دل کی بیماریوں اور نمک کا آپس میں تعلق

انٹرنیشنل ہیلتھ ایمرجنسی کے واقعات، عالمی ادارہ صحت دباؤ میں

یورپی براعظم کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر ہانس کلُوگے نے ایک بیان میں کہا، ''یہ چار صنعتیں ہمارے خطے میں روزانہ کم از کم سات ہزار افراد کو ہلاک کرتی ہیں۔‘‘

شراب صحت کے لیے بہتر ہے یا مضر، سچ کیا ہے؟

منافع کے لیے صحت عامہ کی پالیسیوں میں رخنہ؟

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یورپ میں مجموعی طورپر ہر سال 1.15ملین افراد تمباکو نوشی سے، چار لاکھ 26 ہزار 857 الکوحل سے، ایک لاکھ 17ہزار 290 پروسیسڈ گوشت کی زیادہ خوراک استعمال کرنے سے اور دو لاکھ 52 ہزار 187 افراد کھانے میں نمک کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تمباکو صنعت ماحولیات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، عالمی ادارہ صحت

ویگووی موٹاپے کے خلاف’جادوئی گولی‘نہیں، ڈبلیو ایچ او

ان اعداد و شمار میں موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، بلڈ شوگر یا ہائی کولسٹرول لیول کی وجہ سے ہونے والی اموات شامل نہیں ہیں، حالانکہ یہ امراض بھی غیر صحت بخش غذاؤں ہی سے منسلک ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے ان چار صنعتوں پر ان عوامی پالیسیوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام بھی لگایا ہے، جو ان کے منافع کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صنعتیں اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اپناتی ہیں۔ ان میں ٹارگٹڈ مارکیٹ اسٹریٹیجی، غلط معلومات، سوشل میڈیا پر مصنوعات کو فروغ دینا اور سائنس کی غلط تشریح کے لیے ریسرچ کے نام پر مالی امداد جیسے طریقے شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا، ''یہ ہتھکنڈے گزشتہ صدی میں حاصل ہونے والے صحت عامہ کے فوائد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور بہت سے ممالک کو اپنے صحت کے اہداف تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔‘‘

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صنعتوں کی لابیئنگ کی وجہ سے غیر متعدی بیماریوں مثلاً امراض قلب، کینسراور ذیابیطس سے نمٹنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

آپ کا پاخانہ کسی موذی مرض کی نشاندہی کر سکتا ہے؟

صحت کے لیے مضبوط ضابطہ سازی کی ضرورت

عالمی ادارہ صحت نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ تمام بڑی کمپنیوں کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں بڑی حصہ داری کے ذریعے منافع کمانا ہے اور ''وہ اکثر سیاسی طاقت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔‘‘

ڈبلیو ایچ او کے مطابق یورپ میں 60 فیصد بالغ افراد اور ایک تہائی بچے زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کی بیماری کا شکار ہیں۔

سن 2017 کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں امراض قلب اور کینسر کی وجہ سے ہونے والی ہر پانچ میں سے ایک موت کھانے کی غیر صحت بخش عادات کا نتیجہ تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غیر صحت بخش مصنوعات کی مارکیٹنگ، اجارہ داری کے طریقوں اورلابیئنگ کے حوالے سے مضبوط ضابطوں کو نافذ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

ہانس کلُوگے کا کہنا تھا، ''لوگوں کو منافع سے پہلے ہمیشہ صحت عامہ کو ترجیح دینا چاہیے۔‘‘

ج ا/م م (اے ایف پی، ڈی پی اے)