یورپ میں برطانیہ کی تنہائی سے اس کے اثر و رسوخ میں کمی کا اندیشہ | حالات حاضرہ | DW | 13.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپ میں برطانیہ کی تنہائی سے اس کے اثر و رسوخ میں کمی کا اندیشہ

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے یورپی معاہدے کو ویٹو کرنے کے فیصلے نے ان کے ملک کو صرف یورپ میں تنہا ہی نہیں کر دیا بلکہ اب اس کا یورپ کے مستقبل سے متعلق فیصلوں پر اثر و رسوخ بھی کمزور ہونے کا امکان ہے۔

default

جہاں اس فیصلے کو یورپی یونین کے اختیارات پر معترض برطانوی حلقوں نے سراہا ہے وہاں دیگر یورپی ملکوں میں برطانیہ سے ’جان چھوٹنے پر‘ اطمینان کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ لیکن اس فیصلے کے منفی اثرات برطانیہ اور باقی یورپ دونوں پر پڑنے کا امکان ہے۔

یورپی یونین میں برطانیہ کو پہلے ہی ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جو رکنیت کی پابندیوں سے آزاد رہ کر یورو زون کے مرکزی مالیاتی مرکز یعنی لندن کے ثمرات سے مستفید ہو رہا تھا جبکہ اس پر مقروض ملکوں کو قرض سے بچانے کے امدادی پیکجوں میں حصہ ڈالنے پر بھی کوئی دباؤ نہیں تھا۔

لندن میں سابق امریکی سفیر ریمنڈ سائٹز نے 1998ء میں اپنی یادداشتوں میں لکھا تھا، ’’امریکہ کے لیے برطانیہ کو اتحادی بنانے کی افادیت اس کے یورپ میں اثر و رسوخ کی وجہ سے تھی۔ اگر پیرس میں برطانیہ کی آواز کا اثر و رسوخ کم ہو گیا تو واشنگٹن میں بھی اس کا اثر پڑے گا۔‘‘

اسی طرح اگر وہ طویل عرصے تک یورپی یونین سے باہر رہا تو اس میں سرمایہ کاری کی کشش بھی ماند پڑ جائے گی۔

ایک جرمن بینک کے لندن میں مقیم سینئر ایگزیکیٹو ٹام براؤن نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں لکھا، ’’لندن شہر کے مفادات کے تحفظ کی باتیں ایک اہم چیز کو فراموش کر رہی ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ مالیاتی سروسز میں اپنی برتری قائم رکھنا چاہتا ہے تو برطانیہ کو یورپی یونین کی مکمل رکنیت پر قائم رہنا ہو گا۔‘‘

Großbritannien Finanzminister George Osborne

برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن نے اس بات کی تردید کی ہے کہ لندن اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھا ہے

برسلز کے اقتصادی تھنک ٹینک Re-Define کی سربراہ سونی کپور کا کہنا ہے کہ حیران کن بات یہ ہے کہ برطانیہ نے یورپی یونین کی ٹریٹی کو اس لیے ویٹو کیا کہ اس میں مالیاتی سروسز کی نگرانی کے لیے کڑے قوانین متعارف کرائے جا رہے تھے جبکہ خود برطانیہ کے اندر بینکوں کے سرمائے کی شرائط اور عام بینکاری کو سرمایہ کارانہ بینکاری سے الگ کرنے جیسے معاملات کے لیے یورپی یونین سے بھی سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔

برطانیہ کی جانب سے یہ فیصلہ اس لیے بھی حیرت کا باعث ہے کیونکہ برطانوی ٹیکنو کریٹ کافی عرصے سے یورپی یونین کے اہم اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔

برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن نے اس بات کی تردید کی لندن اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے برطانیہ کی مالیاتی سروسز اور صنعتی کمپنیوں کو تحفظ فراہم کیا ہے تاکہ وہ یورپ میں اپنی مصنوعات کی تجارت جاری رکھ سکیں۔‘‘

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM