یورپ: مہاجرین اور اسلام مخالف جماعتیں متحد ہوتی ہوئیں | حالات حاضرہ | DW | 19.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ: مہاجرین اور اسلام مخالف جماعتیں متحد ہوتی ہوئیں

جرمنی میں ایک ایسی کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے، جس میں مختلف یورپی ممالک کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اور عوامیت پسند رہنما شریک ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب ان کی مخالفت میں احتجاجی ریلیوں کا نعقاد بھی ہوگا۔

اس یورپی کانفرنس کا انعقاد آئندہ ہفتے کے روز جرمنی کے شہر کوبلنز میں ہوگا اور اس میں انتہائی دائیں بازو کی فرانسیسی صدارتی امیدوار مارین لے پین، ہالینڈ کے اسلام مخالف اور ’پارٹی فار فریڈم‘ کے رہنما گیرٹ ویلڈرز، جرمنی کی مہاجرین مخالف اور قدامت پسند جماعت ’آلٹرنیٹو فار جرمنی‘ کی خاتون رہنما فراؤکے پیٹرے اور اٹلی کی سخت گیر جماعت ’پارٹی ناردرن لیگ‘‘ کے رہنما ماتھیو سلوینی شرکت کر رہے ہیں۔

حال ہی میں برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے ریفرنڈم اور امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے ان جماعتوں کے بھی حوصلے بلند کیے ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد، اسلام مخالف  اور یورپی یونین مخالف جذبات کا فائدہ اٹھائیں۔ براعظم یورپ کے مختلف ملکوں میں دائیں بازو ایسی قدامت پسند جماعتیں انتخابی عمل میں بھی کسی حد تک کامیاب ہو رہی ہیں۔

اس کانفرنس کا نام ’یورپین کاؤنٹر سمٹ‘ رکھا گیا ہے اور اس کا انعقاد ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور امریکی صدر حلف اٹھانے کے ایک روز بعد کیا جا رہا ہے۔ ہالینڈ کے اسلام مخالف سیاستدان ویلڈرز نے اس کانفرنس کے حوالے سے ’’ہم اپنے ملکوں کو دوبارہ عظیم بنائیں گے‘‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا ہے ۔ یہ وہی نعرہ ہے، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران استعمال کیا تھا۔

یورپ میں قوت پکڑتی قدامت پسند سیاسی جماعتیں

فرانس کی صدارتی امیدوار کے مشیر کا اس حوالے سے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارا مقصد یہ ہے کہ یورپی عوام اور یورپ کی آزادی کی بات کی جائے۔ ہمیں یورپ کی تنگی اور عالمگیریت سے آزاد ہونا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب بائیں بازو کے گروپ اور تنظیمیں اس اجلاس کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہو رہی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں میں سینکڑوں افراد شریک ہوں گے۔ اس کانفرنس مخالف احتجاج میں بھی یورپ بھر سے سیاستدان شریک ہو رہے ہیں۔ دریائے رائن کے کنارے واقع شہر کوبلنز کی پولیس کے مطابق وہ اس موقع پر ایک ہزار اہلکار تعینات کر رہے ہیں تاکہ احتجاجی مظاہروں کو پرامن رکھا جا سکے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات